لندن ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے قید و بند کا ماحول ہے، کشیدگی اپنے عروج پر اور مواصلاتی نظام ٹھپ ہے لیکن بھارت کے حکومتی دعوے اس کے برعکس ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی حکومت کے مطابق کشمیر میں حالات خوشگوار ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاعات نہیں ہیں لیکن …
مقبوضہ کشمیر میں تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے قید و بند کا ماحول ہے، بی بی سی کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ

مزید خبریں
لندن ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے قید و بند کا ماحول ہے، کشیدگی اپنے عروج پر اور مواصلاتی نظام ٹھپ ہے لیکن بھارت کے حکومتی دعوے اس کے برعکس ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی حکومت کے مطابق کشمیر میں حالات خوشگوار ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاعات نہیں ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہے کہ کہیں کہیں تشدد اور تصادم کے واقعات پیش آتے ہیں لیکن ان میں زخمیوں کی تعداد کا کہیں ذکر نہیں ہوتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا شکار افراد سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ ایسے افراد میں پانچ سال کے بچوں سے لے کر 72 سال تک کے معمر افراد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کچھ لوگ پیلٹ گنز سے نکلنے والے چھروں سے زخمی ہوئے ہیں اور کچھ کو وہ پتھر لگے ہیں جنھیں بھارتی فوجیوں نے غلیلوں سے داغا تھا۔ ایسے زخمیوں میں پانچ سالہ لڑکی منیفہ نذیر بھی شامل ہیں جو پرانے سرینگر کے علاقے کی رہائشی ہیں اور عید الاضحی کے روز وہ اپنے چچا کے ساتھ قربانی کا گوشت تقسیم کرنے گئی تھیں جب ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔








