مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 112ویں روز بھی فوجی محاصرہ بدستورجاری، پولیس کی سرینگر میں نظربند سیاسی رہنمائوں کے ساتھ بدسلوکی

سری نگر۔ 24 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںبھارت کی طرف سے وادی کشمیر اور جموں کے مختلف علاقوں میں مسلسل 112ویں روز بھی فوجی محاصرہ اور دیگر پابندیاں جاری اور انٹرنیٹ معطل رہا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاںعائد ہیں جبکہ دوکانیں اورکاروباری مراکزبند رہے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجدکے ارد گرد کے علاقوں میں 5اگست سے …

سری نگر۔ 24 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںبھارت کی طرف سے وادی کشمیر اور جموں کے مختلف علاقوں میں مسلسل 112ویں روز بھی فوجی محاصرہ اور دیگر پابندیاں جاری اور انٹرنیٹ معطل رہا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاںعائد ہیں جبکہ دوکانیں اورکاروباری مراکزبند رہے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجدکے ارد گرد کے علاقوں میں 5اگست سے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی، خاص طور پر پابندیاں نافذ ہیں۔ جامع مسجد کے تمام دروازے بند ہیں اور مسجد کے باہراضافی بھارتی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ ، ٹیکسٹ مسیجنگ اور پری پیڈ موبائل فونز کی مسلسل معطلی کی وجہ سے کشمیر یوں کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ بھارتی پولیس نے سرینگر میں مولانا آزاد روڈ پر سب جیل قرار دیے جانے والے ایم ایل اے ہوسٹل میں چھاپہ مارا اورجیل میں نظربند33سیاسی نظربندوں کے ساتھ بدسلوکی کی، نظر بند رہنمائوں کی باربارتلاشی لی گئی۔بھارتی فورسز نے ایک سیاسی رہنما کے دو سالہ بچے کی بھی تلاشی لی جس پر سب جیل میں نظربندوں نے احتجاج کیا۔ کانگریس کے سینکڑوں کارکنوں نے جموںوکشمیر کی پرانی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے لئے جموں میں احتجاجی مارچ کیا۔مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بھارتی صدر رامناتھ کووند کے نام ایک یادداشت پیش کی جس میں کشمیر میںجمہوریت کے قتل کی مذمت کی گئی ہے۔بھارت کے سابق ویر خزانہ یشونت سنہا کی قیادت میںبھارتی سول سوسائٹی گروپ کے پانچ رکنی وفد کو قابض انتظامیہ نے پلوامہ کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔وفد میں شامل گروپ کے رکن کپل کاک نے کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں کشمیر کے حوالے سے عالمی مداخلت کی پالیسی کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرنئے انتخابات کے نتیجے میں بورس جانسن کی جگہ جیرمی کوربن برطانیہ کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں تومسئلہ کشمیر پربرطانیہ اور بھارت کے درمیان تعلقات مزید بگڑ سکتے ہیں۔