وفاقی آئینی عدالت نےقرار دیا ہے کہ قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے، محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
مقررہ مدت گزرنے کے بعد آئینی درخواست کے ذریعے قانونی چارہ جوئی سے بچا نہیں جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نےقرار دیا ہے کہ قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے، محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں مذہبی لٹریچر پر پابندی اور ضبطگی کے خلاف دائر متعدد درخواستیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر معمولی تاخیر ’’لیشز‘‘ کا باعث بنتی ہے اور آئینی درخواست کے ذریعے مدت قانونی سے بچنے کی کوشش قانون کے عمل کا غلط استعمال ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کے پاس حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99-A کے تحت کیے گئے اقدام کے خلاف دفعہ 99-B کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کا متبادل قانونی راستہ موجود تھا جبکہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی اپیل کا حق حاصل تھا تاہم انہوں نے مقررہ مدت میں یہ قانونی چارہ جوئی اختیار نہیں کی۔وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی اختیار کا ہر استعمال قانون میں موجود قانونی ماخذ سے منسلک ہونا چاہیے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی اقدام انتظامی افسر نے کیا ہے، اسے غیر قانونی یا محض انتظامی صوابدید نہیں بنا دیتی، اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کس قانون سے حاصل کیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ بنیادی حقوق اہم آئینی ضمانتیں ہیں تاہم ان کا استعمال قانون، عوامی پالیسی اور اخلاقیات کے تابع ہے۔ مذہبی آزادی سمیت بنیادی حقوق کو وسیع عوامی مفاد کے ساتھ متوازن کیا جانا ضروری ہے۔مقدمے میں محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کے 25 جون 2014 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھاجس کے ذریعے ’’روحانی خزائن‘‘ کی جلد اول تا 23 پر پابندی عائد اور تمام نقول ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ دیگر درخواست گزاروں نے بھی مختلف لٹریچر اور مواد کے خلاف حکومتی کارروائیوں کو چیلنج کیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے متبادل قانونی چارہ جوئی اختیار کرنے کی بجائے قابل ذکر تاخیر کے بعد آئینی درخواستیں دائر کیں اور تاخیر کی کوئی قابلِ قبول وجہ بھی پیش نہیں کی۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلوں میں ایسی کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے۔ عدالت نے تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور زیر التوا درخواستیں بھی نمٹا دیں۔








