چائنا گلوبل پروفیشنل سرٹیفکیشن (سی جی پی ٹی سی) کی چیئرپرسن اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن پاکستان (نیوٹیک) کی سابق چیئرپرسن گلمینہ بلال احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کو صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماہرین تیار کرنے کے بجائے ہر شعبے سے وابستہ کارکنوں کو اے آئی کے موثر استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کو صرف اے آئی ماہرین ہی نہیں بلکہ ہر کارکن کو اے آئی کے استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا، گلمینہ بلال احمد

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):چائنا گلوبل پروفیشنل سرٹیفکیشن (سی جی پی ٹی سی) کی چیئرپرسن اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن پاکستان (نیوٹیک) کی سابق چیئرپرسن گلمینہ بلال احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کو صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماہرین تیار کرنے کے بجائے ہر شعبے سے وابستہ کارکنوں کو اے آئی کے موثر استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026 کے دوران پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت پر بحث کو صرف سافٹ ویئر انجینئرز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عام کارکنوں کو بھی اے آئی کو عملی معاونت کے طور پر استعمال کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی تربیت صرف پروگرامرز تک محدود کیوں رکھی جائے، پاکستان کو اے آئی سے لیس پلمبرز، الیکٹریشنز، ٹیکنیشنز، کسانوں، اساتذہ، نرسز اور کاروباری افراد کی بھی ضرورت ہے تاکہ مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔

گلمینہ بلال احمد نے ورلڈ اکنامک فورم کی ’’فیوچر آف جابز رپورٹ 2025‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2030ء تک دنیا بھر میں موجودہ ملازمتوں کے لیے درکار تقریباً 39 فیصد مہارتوں میں تبدیلی آنے یا ان کے فرسودہ ہونے کا امکان ہے جس سے ہنر کی ازسرنو تربیت اور نئی مہارتوں کے حصول کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں روزگار کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کارکنوں کی جگہ لے لے گی بلکہ اصل مقابلہ ایسے کارکنوں کے درمیان ہوگا جو اے آئی کا استعمال جانتے ہیں اور ان کے درمیان جو اس سے ناواقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی عالمی معیشت میں ملک کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ ہے تاہم صرف نوجوان آبادی معاشی فوائد کی ضمانت نہیں دے سکتی، اس کے لیے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا اور بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہوگا۔پینل ڈسکشن میں سینیٹر ثناء جمالی، کشمالہ طارق، ڈاکٹر سونیا سلیم اور گلمینہ بلال احمد نے شرکت کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر جوہریہ اظہر نے پینل ڈسکشن کی میزبانی کی۔







