ملک بھر میں 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 2 فروری سے شروع ہو گی،فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 2 فروری سے شروع ہو گی جو 8 فروری تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس بریفننگ کے …

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 2 فروری سے شروع ہو گی جو 8 فروری تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس بریفننگ کے دوران کیا۔ عائشہ رضا فاروق نے بتایا کہ مہم کے دوران 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائیں گے۔ انہوں نے والدین اور کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ ہر مہم میں پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے ضرور پلوائیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور حکومتِ پاکستان پولیو کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں عوامی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے جبکہ علمائے کرام اور میڈیا پولیو سے متعلق آگاہی میں مو ثر کردار ادا کریں۔عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ 2025 میں پولیو کیسز میں کمی واقع ہوئی اور 31 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ حتمی ہدف زیرو پولیو کیسز کا حصول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ویکسین سے اموات کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تاہم پولیو کا خطرہ بدستور موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیو مہمات کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ بین الاقوامی شراکت دار فراہم کرتے ہیں جبکہ 30 فیصد حکومتِ پاکستان کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ پاکستان دو مرتبہ پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ روٹین پولیو مہم کے ساتھ دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسی نیشن بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ساؤتھ کراچی میں پولیو کے قطرے نہ پلانے سے متعلق شکایات موصول ہوئیں جبکہ سات اضلاع کی بعض یونین کونسلز میں پولیو ورکرز کو مہم کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی کے کچھ علاقوں میں پولیو ویکسین سے انکار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور ایک مخصوص علاقے میں اب بھی پولیو وائرس کی موجودگی پائی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر صحت نے ارکانِ اسمبلی کے ساتھ مل کر پولیو مہم میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں حکومتی کوششوں سے پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ملک بھر سے شہری پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کو مزید موثر اور مضبوط بنایا گیا ہے اور پولیو ورکرز کی سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو ڈیوٹی کے دوران ایف سی، نیوی اور فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ شہید پولیو ورکرز کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا ہے۔