اسلام آباد ۔ 4 جنوری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح اور زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ نیب نے نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی ہے َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر …
ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ، زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں،چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 جنوری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح اور زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ نیب نے نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی ہے َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے، قومی احتساب بیورو میں جہاں اور بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیں وہاں قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا نہ صرف عزم کیا بلکہ اس کو پورا کر کے دکھاےا ہے۔ آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کےلئے قومی احتساب بیورو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیںجبکہ اس وقت ملک کی معز ز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1275بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جنکی کل مالیت تقریباََ 943ارب روپے ہے۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے گزشتہ دوسال کے دوران مجموعی طور پر بدعنوان عناصر سے بلاواسطہ اور بلواسطہ لوٹے گئے 178ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔نیب کے تمام افسران واہلکاران نے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار اداکیاہے۔۔نیب افسران اسی کارکردگی کو جاری رکھیں گے اور قوم کی ملک سے بدعنوانی سے خاتمہ کیلئے امنگوں پر پورا اترنے کیلئے اپنی کوششیں دوگناکریں گے۔جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ چیئرمین نیب کا عدہ سنبھالنے کے بعد نیب کو فعال ادارہ بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب فیس نہیں کیس دیکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب کا تعلق کسی گروہ ،فرد،گروپ یا سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ صرف اور صرف پاکستان سے ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کوسال 2019 میں مجموعی طور پر51591 شکاےات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکاےات کو قانون کے مطابق نمٹا دےا گےاجبکہ اس وقت 13299 شکاےات پر کاروائی کی جارہی ہے ۔ نیب نے سال 2019 میں 1464 شکاےات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362شکاےات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کےا گےا جبکہ اس وقت 770 شکاےات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں ۔ نیب نے سال 2019 میں 574 انکوائرےوں کی منظوری دی جبکہ658 انکوائرےوں کومکمل کےا گےا۔ اس وقت 859 انکوائرےوں پر قانون کے مطابق تحقیقات جارہی ہیں۔ اسی طرح نیب نے سال 2019 میں221 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 217 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔ اس وقت 335 انوسٹی گیشنزپر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں ۔ نیب نے سال 2019 میں 206 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ۔ جن میں سے 161 ریفرنسز پر فیصلہ ہوا۔نیب نے سال 2019 میںبدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طو ر پر 150 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے جو کہ ایک ریکارڈ کامےابی ہے۔ نیب نے تقریباََ 600 بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے۔ اس کے علاوہ نیب نے 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 101 بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتسا ب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ 46 ریفرنسز کو قانون کے مطابق نمٹا دےا گےا ہے۔ اس وقت 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 13 انکوائرےوںاور 19 انوسٹی گیشزتکمیل کے مراحل میں ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانااوربدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے نیب کی 2019 کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ تمام شکاےات کی جانچ پڑتال ، انکوائرےوںاور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندرمنطقی انجام تک پہنچاےا جائے ۔








