ملک میں زرعی رقبہ کے تحفظ کیلئے قانون سازی کریں گے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا زراعت پر قومی مکالمہ کی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی رقبہ کے تحفظ کیلئے قانون سازی کریں گے، پارلیمانی زرعی کمیٹی اور صوبوں کی قائم زرعی کمیٹیوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے تاکہ وہ اس مرکزی پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ رابطہ میں رہ سکیں۔ جمعرات کو زراعت پر قومی مکالمہ کی اختتامی تقریب سے خطاب …

اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی رقبہ کے تحفظ کیلئے قانون سازی کریں گے، پارلیمانی زرعی کمیٹی اور صوبوں کی قائم زرعی کمیٹیوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے تاکہ وہ اس مرکزی پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ رابطہ میں رہ سکیں۔ جمعرات کو زراعت پر قومی مکالمہ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کے اراکین نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قومی مکالمہ میں بھرپور شرکت کی اور تمام فریقین نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اس مکالمہ کو گفتاً نشستاً برخاستاً نہیں بننے دیں گے، اس کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے ورکنگ گروپ بنائے جائیں گے، ان کی سفارشات پر ایوان میں باقاعدہ بحث کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پارلیمانی زرعی کمیٹی بنائی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے مکالمے ہم صوبوں میں جا کر بھی کریں گے جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل بھی اس طرز کی ایک نشست رکھی جائے گی۔ انہوں نے قومی مکالمہ کے بھرپور اور کامیاب انعقاد پر تمام شرکائ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے کو خصوصی مبارکباد پیش کی۔ واضح رہے کہ اس قومی مکالمے کی افتتاحی تقریب کے بعد 8 مختلف سیشن منعقد ہوئے جن میں اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں اور زرعی ماہرین کے علاوہ کسان اتحاد کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ ہر گروپ کی جانب سے سفارشات مرتب کی گئیں۔ پہلے سیشن کی صدارت ملک محمد احسان الحق ٹوانہ نے کی۔ دوسرے سیشن کی صدارت سیّد نوید قمر، تیسرے سیشن کی صدارت نواب محمد یوسف تالپور، چوتھے سیشن کی صدارت مخدوم زین حسین قریشی، پانچویں سیشن کی صدارت صاحبزادہ محمد امیر سلطان، چھٹے سیشن کی صدارت نفیسہ عنایت اﷲ خٹک، ساتویں سیشن کی صدارت شاندانہ گلزار خان جبکہ آٹھویں سیشن کی صدارت فیض اﷲ نے کی۔