ریاض۔29اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری انجینئرخالد الفالح نے کہا ہے کہ مملکت میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ریاض میں فیوچر انویسٹنمٹ انیشیٹو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں چار گناہ اضافہ ہوا ہے جو وژن 2030 کے مقر کردہ ہدف سے زیادہ …
مملکت میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں چار گنا اضافہ ہوا جو وژن 2030 کے ہدف سے زیادہ ہے، سعودی وزیر سرمایہ کاری
ریاض۔29اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری انجینئرخالد الفالح نے کہا ہے کہ مملکت میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ریاض میں فیوچر انویسٹنمٹ انیشیٹو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں چار گناہ اضافہ ہوا ہے جو وژن 2030 کے مقر کردہ ہدف سے زیادہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی معیشت کا اب محض تیل پر انحصار نہیں رہا، مملکت کے 40 فیصد اخراجات اور بجٹ کی آمدنی تیل سے ہٹ کر ذرائع سے حاصل ہوتی ہے جبکہ 90 فیصد غیرملکی سرمایہ کاری بھی دوسرے شعبوں میں کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، سیاحت، ایجادات، سائنسی علوم جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
کورونا وائرس کی وبا اور تیل کی قیمتوں میں کمی اور علاقائی کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز پر بہترین انداز میں قابو پایا جس کا سہرا مستحکم ملکی معیشت کو جاتا ہے۔ وزیر سرمایہ کاری نے کہا کہ نان آئل اکانومی پانچ فیصد تک بڑھ چکی، گزشتہ 2 سال میں مملکت میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں نئی اور پرکشش سرمایہ کاری کے مواقع سامنے آئے ہیں۔









