منصفانہ اجرت اور محفوظ ماحول محنت کشوں کا آئینی حق ہے، چیف جسٹس پاکستان کایوم مزدور کے موقع پر پیغام
منصفانہ اجرت اور محفوظ ماحول محنت کشوں کا آئینی حق ہے، چیف جسٹس پاکستان کایوم مزدور کے موقع پر پیغام
اسلام آباد۔1مئی (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ منصفانہ اجرت، محفوظ اور انسانی کام کے حالات اور سماجی انصاف محنت کشوں کے آئینی حقوق ہیں جنہیں ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اپنے خصوصی پیغام میں چیف جسٹس نے کہا کہ یومِ مزدور ہمیں نہ صرف محنت کشوں کی خدمات کو سراہنے کا موقع دیتا ہے بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انہیں فراہم کیے جانے والے انصاف اور قانونی تحفظ کا معیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت اس کے محنت کش طبقے کو دیے جانے والے وقار سے ظاہر ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں افراد اپنی محنت اور مہارت سے معیشت کو سہارا دے رہے ہیں، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ ریاست اور اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین میں دی گئی ضمانتوں کو عملی شکل دینا ناگزیر ہے تاکہ ہر مزدور کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ لیبر قوانین کی مؤثر اور حقوق پر مبنی تشریح کے ذریعے محنت کشوں کے استحصال کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم بدلتی ہوئی معاشی صورتحال، غیر رسمی شعبے کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل معیشت کے تناظر میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لیبر معاملات میں انصاف تک رسائی کو بہتر بنایا جائے گا،
تنازعات کے فوری حل کو فروغ دیا جائے گا اور جبری مشقت، چائلڈ لیبر اور غیر محفوظ کام کے ماحول کے خلاف تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک منصفانہ اور انسانی لیبر نظام ہی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بناتا ہے، اور یومِ مزدور اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ ہر محنت کش کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔









