پشاور۔25اکتوبر(اے پی پی)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور اصلاحات کے نفاذ سے ہونے والی بچت کے باعث اگلے مالی سال کے لیے ایک ٹریلین )ایک ہزارارب( سے بھی زائد کا ریکارڈ بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے ، موجودہ سال کے 900 ارب روپے کے ریکارڈ بجٹ میں …
موجودہ حکومت صنعت کاری اور سرمایہ کاری کے لیے حقیقی معنوں میں سازگار ماحول پیدا کرنے میں سنجیدہ ہے،تیمور سلیم جھگڑا

مزید خبریں
پشاور۔25اکتوبر(اے پی پی)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور اصلاحات کے نفاذ سے ہونے والی بچت کے باعث اگلے مالی سال کے لیے ایک ٹریلین )ایک ہزارارب( سے بھی زائد کا ریکارڈ بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے ، موجودہ سال کے 900 ارب روپے کے ریکارڈ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کی رقم 150 ارب سے بڑھا کر 319 ارب روپے مختص کی گئی ہے اور اس خطیررقم سے صوبے کی معیشت میں تیزی آرہی ہے، صوبائی حکومت صنعت و تجارت میں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سرکاری رکاوٹیں ختم کر رہی ہے بعض شعبوں میں ٹیکس کم کئے جائیں گے ،سروس ٹیکس تیرہ چودہ محکموں کے بجائے صرف ایک یا دو محکمے اکٹھا کرنے کے مجاز ہوں گے، ٹیکس کا نظام ہر ممکن حد تک سادہ اور آسان بنایا جارہا ہے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت تاجروںو صنعت کاروں کی مشکلات اور تجاویز سننے کے لیے ہر وقت تیار ہے،موجودہ حکومت صنعت کاری اور سرمایہ کاری کے لیے حقیقی معنوں میں سازگار ماحول پیدا کرنے میں سنجیدہ ہے اور یہ سنجیدگی ورلڈ بینک کی حالیہ رینکنگ سے ظاہر ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے ایک روزہ دورہ ایبٹ آبادکے دوران مقامی ہوٹل میںہزارہ ڈویژن کی تاجر تنظیموں کے عہدیداروں، کامسیٹس یونیورسٹی میں” ہزارہ کی اقتصادی ترقی” کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ قومی کانفرنس کے اختتامی اجلاس اور ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی) کے پی آرا ے (کے ریجنل آفس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کئے۔ تقریبات میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق احمد غنی اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالکریم خان ،کے پی آر اے کے ڈائریکٹر جنرل طاہر اورکزئی، ایڈیشنل کلکٹر وانچارج ریجنل آفس ریاض دائوداور دیگر نے بھی شرکت کی ۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کوئی شہری خوشی سے ٹیکس نہیں دیتا لیکن امریکہ ،یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے عوام اس لئے خوشحال ہیں کہ ان کی آمدن پر 40 سے 60 فیصد تک ٹیکس لیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح دس فیصد سے بھی کم ہے جس کے باعث حکومت کو سہولیات کی فراہمی میں مشکل پیش آتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ہزارہ کے تاجروں کو ٹیکس کی اہمیت معلوم ہے اور تاجروں کو سہولیات دینے کے لئے حکومت کو صرف ٹیکس وصولی اور اخراجات کا نظام درست کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم میں ٹیکس ادائیگی کا احساس پیدا ہوگیا تو اس کا فائدہ عوام کو ہی ہو گا اور اس کی ایک مثال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت آئندہ مالی سال سے پورے صوبے میں دس ارب روپے کی لاگت سے ہیلتھ انشورنس کارڈ کے ذریعے کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت مفت فراہم کر رہی ہے ۔تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ مرکز اور صوبے میں ایک پارٹی کی حکومت کے باعث ہماری صوبائی حکومت کے لیے یہ نادر موقع ہے کہ وہ صوبے میں خصوصاً سیاحت ،معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں موجود وافر قدرتی وسائل اور ترقی و روزگار کے بے پناہ امکانات سے فائدہ اٹھائے اور عوام کو خوشحال بنانے کے اپنے خواب کو پورا کرے ۔







