موجودہ دور میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہیں، پاکستان کو اپنے سائبر نظام کو محفوظ اور مضبوط بنانا ہوگا ، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہیں، اس لئے پاکستان کو اپنے سائبر نظام کو محفوظ اور مضبوط بنانا ہوگا تاکہ قومی سلامتی، معیشت اور ریاستی اداروں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔

اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہیں، اس لئے پاکستان کو اپنے سائبر نظام کو محفوظ اور مضبوط بنانا ہوگا تاکہ قومی سلامتی، معیشت اور ریاستی اداروں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں جنگ میڈیا گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سائبر سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں سائبر سکیورٹی ماہرین اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے اس اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر جنگ میڈیا گروپ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج معلومات، ڈیٹا اور سائبر سسٹمز کسی بھی ملک کی معیشت، حکمرانی اور سلامتی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، اگر ان نظاموں کو محفوظ نہ بنایا جائے تو نہ صرف معیشت بلکہ ریاستی ادارے اور قومی سلامتی بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور خیبرپختونخوا کے نوجوان بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں صلاحیتوں کے حامل ہیں، اگر انہیں جدید ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے تو نہ صرف ملک کے ڈیجیٹل نظام کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو اہم مقام دلایا جا سکتا ہے۔

گورنر نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کا حصہ ہے اور ملک کے نوجوان آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ملک کے سائبر انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں اور سیمینارز انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان سے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم ملتا ہے جہاں نئی سوچ، تحقیق اور حل تلاش کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ گورنر نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی تجاویز اور سفارشات پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

 

مزید خبریں