لاہور ۔11اکتوبر (اے پی پی):مولانا عادل خان کا قتل اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی کارروائی ہے۔ مولانا کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ سندھ حکومت کی طرف سے مولانا کو سیکورٹی نہ دینے کی تحقیقات کروائی جائیں۔ ہندوستان افغانستان میں امن مذاکرات کے آغاز کے بعد خطہ کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات مختلف مکاتب فکر کے علماءو مشائخ اور مذہبی …
مولانا عادل خان کا قتل اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی کارروائی ہے، علما و مشائخ ، سیاسی و مذہبی جماعتوں کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور ۔11اکتوبر (اے پی پی):مولانا عادل خان کا قتل اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی کارروائی ہے۔ مولانا کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ سندھ حکومت کی طرف سے مولانا کو سیکورٹی نہ دینے کی تحقیقات کروائی جائیں۔ ہندوستان افغانستان میں امن مذاکرات کے آغاز کے بعد خطہ کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات مختلف مکاتب فکر کے علماءو مشائخ اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی‘ پاکستان علماءکونسل و متحد ہ علماءبورڈ کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی حافظ محمد طاہر اشرفی‘ مولانا اسد اللہ فاروقی ‘ مولانا محمدخان لغاری‘ مولانا سید ضیاءاللہ شاہ بخاری‘ مولانا حافظ کاظم رضا‘ مولانا محمد علی نقشبندی ‘ مولانا محمد شفیع قاسمی‘ مولانا سید الرحمن سعید‘ مولانا محمداشفاق پتافی‘ مولانا عبدالقیوم فاروقی‘ مولانا عبدالقیوم فاروقی‘ مولانا اسلم صدیقی‘ علامہ زبیر عابد‘ قاری عبدالحکیم اطہر‘ مولانا مبشر رحیمی‘ قاری شمس الحق‘ مولانا عبدالغفار فاروقی‘ مولانا ابراہیمی حنفی‘ حافظ عبدالرو ¿ف فاروقی ‘ قاری فیصل‘ مولانا انعم بادشاہ اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے۔ مولانا عادل خان عالم اسلام کے عظیم رہنما تھے۔ لاکھوں علماءکے استاد تھے‘ اسلام اور پاکستان کی سربلندی اور استحکام کیلئے کوشاں تھے۔ اسلام اور پاکستان دشمنوں نے مولانا کو نشانہ بنا کر اسلام اور پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کو سندھ حکومت کی طرف سے سیکورٹی کا مہیانہ کیا جانا افسوسناک ہے۔ سندھ حکومت کو اس کوتاہی کا جواب دینا چاہئے۔ رہنماو ¿ں نے کہا کہ اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی سلامتی کے اداروں افواج پاکستان اور پولیس ‘ علماءمشائخ کا کردار قابل اطمینان تھا۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بھارت میں پاک فوج کے خلاف اور پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کیلئے سازشیں تیار کی جا رہی ہیں۔ جن کو ملک کے سلامتی کے اداروں نے محرم الحرام کے دوران اور قبل ناکام بنایا ہے۔ پاکستان دشمن واضح طور پر یہ بات جانتے ہیں کہ مضبوط پاکستانی فوج قوم اور علماءکے اتحاد کو انتشار میں بدلنا ہو گاجس میں ہندوستان کو ناکامی ہو گی ان شاءاللہ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علماءو مشائخ اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازشوں سے آگاہ ہیں۔ محرم الحرام سے قبل اور دوران توہین و تکفیر کرنے والے مجرموں کی اکثریت گرفتار ہو چکی ہے اور جوباقی ہیں وہ بھی جلد گرفتار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یونین کونسلرسے مرکز تک ائیرفیتھ ہار منی کونسلز قائم کی جائیں گی جو بین المسالک و بین المذاہب رواداری کو مضبوط بنانے میں مدد گار ہوں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مدارس عربیہ حزب اختلاف کی تحریک کا کسی صورت حصہ نہیں بنیں گے۔ مدارس تعلیمی ا دارے ہیں اور بہترین کام کر رہے ہیں لہذا مدارس کے بچوں کے معاملہ پر بیان بازی نہیں ہونی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ملک میں فساد اور انتشار پھیلانے والوں کو روکنا علماءسمیت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ علماءو مشائخ ملکی استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اےم پی اے جلیل شرقپوری کے ساتھ ہونے والا واقعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عدم برداشت کا رویہ جو سیاسی رہنما اختیار کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماءو مشائخ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو درست سمت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے فحاشی و عریانی کے خاتمے سمیت بہت سارے معاملات میں بہتری آئے گی۔








