ریاض۔12نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ’’جوازات ‘‘میجرجنرل ڈاکٹر صالح المربع نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ روٹ انیشیٹو قائدین مملکت کی جانب سےحجاج کے لیے گراں قدر تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔اردو نیوز کے مطابق جدہ میں منعقدہ حج وعمرہ کانفرنس 2025 کے پانچویں ایڈیشن جس کا امسال سلوگن ’’ مکہ مکرمہ سے دنیا تک ‘‘ ہے کے ایک مذاکرتی سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل …
مکہ مکرمہ روٹ انیشیٹو مملکت کا حجاج کے لیے گراں قدر تحفہ ہے، ڈی جی جوازات ڈاکٹر صالح المربع

مزید خبریں
ریاض۔12نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ’’جوازات ‘‘میجرجنرل ڈاکٹر صالح المربع نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ روٹ انیشیٹو قائدین مملکت کی جانب سےحجاج کے لیے گراں قدر تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔اردو نیوز کے مطابق جدہ میں منعقدہ حج وعمرہ کانفرنس 2025 کے پانچویں ایڈیشن جس کا امسال سلوگن ’’ مکہ مکرمہ سے دنیا تک ‘‘ ہے کے ایک مذاکرتی سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل المربع نےکہا کہ مملکت کی یہ کوشش رہی ہے کہ عازمین حج کو تمام ممکن سہولیات فراہم کی جائیں ،اسی تناظر میں مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں جن میں ایک مکہ روٹ بھی شامل ہے جس کی براہ راست نگرانی وزیر داخلہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ روٹ انیشیٹو کے تحت 9 ممالک کے 13 سٹیشنز سے یہ سہولت عازمین کو فراہم کی جارہی ہے تاہم اس اقدام کو وسعت دینے کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک کے عازمین اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ڈائریکٹر جنرل جوازات نے بتایا کہ اس وقت 13 سے 15 لاکھ عازمین مکہ مکرمہ روٹ اقدام سے مستفید ہو رہے ہیں جس کے تحت انہیں امیگریشن کی جملہ سہولیات ان کے ملک میں ہی فراہم کی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت کے مکہ مکرمہ روٹ انیشیٹو کے تحت مختلف ممالک میں محکمہ جوازات کے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جو ان ممالک کے عازمین حج کا امیگریشن ان کے ملک میں ہی مکمل کرلیتے ہیں جس سے ان عازمین کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ جب مملکت پہنچتے ہیں تو یہاں انہیں امیگریشن کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا بلکہ جہاز سے اتر کر براہ راست بسوں میں سوار ہوجاتے ہیں جہاں عازمین کو مکہ مکرمہ میں ان کی رہائشی عمارتوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔
خیال رہےکہ مکہ مکرمہ روٹ اقدام میں مزید بہتری کرتے ہوئے عازمین کا سامان بھی ان کے ملک میں ہی بک کردیا جاتا ہے جن پر ان کی رہائشی عمارتوں کے نمبر اور ایڈریس بھی درج ہوتے ہیں، اس سے عازمین کو سامان اٹھانا اور انہیں سنبھالنا بھی نہیں پڑتا اور وہ جب اپنی عمارتوں میں جاتے ہیں تو ان سے قبل ہی ان کا سامان بھی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔








