میری ٹائم سیکٹر کو جدید بنانے کے لئے حکومت نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ہیں ، وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کا ’’اے پی پی‘‘ کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو جدید بنانے کے لئے حکومت نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ہیں جن میں بندرگاہ کی توسیع، جہاز رانی کی جدید کاری، گوادر پورٹ کو فعال کرنے، فیری سروسز کا آغاز ، میری ٹائم یونیورسٹی کی ادارہ جاتی اصلاحات اور اپ گریڈیشن شامل ہے ۔ ان خیالات کا …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو جدید بنانے کے لئے حکومت نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ہیں جن میں بندرگاہ کی توسیع، جہاز رانی کی جدید کاری، گوادر پورٹ کو فعال کرنے، فیری سروسز کا آغاز ، میری ٹائم یونیورسٹی کی ادارہ جاتی اصلاحات اور اپ گریڈیشن شامل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’اے پی پی ‘‘کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کیا۔ وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بہت جلد پاکستان میری ٹائم اکیڈمی کو ڈگری دینے والی یونیورسٹی میں اپ گریڈ کیا جائے گا جس کی تزئین و آرائش کے لئے ایک ارب روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک چارٹر کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا ہے۔

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ شکایت سیل، مصنوعی ذہانت کے انضمام، تربیتی پروگرام اور سی ٹو سٹیل پروجیکٹ جیسے اقدامات سے شفافیت، کارکردگی، صنعت کی ترقی اور روزگار کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی اصلاحات کے تحت ایک شکایت سیل کی تشکیل کی جا رہی ہے جس سے شہریوں کو میری ٹائم آپریشنز، پورٹ مینجمنٹ اور شپنگ پالیسیوں پر شکایات اور تجاویز درج کرنے میں سہولت میسر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شکایات کو 10 دنوں کے اندر اندر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد شفافیت، احتساب اور سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو مضبوط بنانا ہے۔

جنید انوار چوہدری نے بندرگاہوں کی ترقی کے لئے نوجوانوں کے آئیڈیاز کو ترجیح دینے، کاروباری افراد اور ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے نوجوانوں میں سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔ گوادر پورٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے جلد ہی مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں سے سڑک اور ریل رابطے مکمل ہونے کے قریب ہیں، ایک بار رابطے کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے بعد گوادر مکمل طور پر آپریشنل ہو جائے گا۔

جنید انوار چوہدری نے درآمدات کو کم کرنے، گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ذخائر کو مضبوط کرنے کے لئے بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو سٹیل کی پیداوار اور جہازوں کی ری سائیکلنگ سے منسلک کرتے ہوئے سی ٹو سٹیل اقدام کا خاکہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فزیبلٹی سٹڈی چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی جس سے پیداوار کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کے ساتھ صنعت میں شپ بریکنگ میٹریل کے استعمال کے حوالے سے تجاویز شیئر کی گئی ہیں۔ حکومت کے میری ٹائم سنچری (2047-2147) کے فریم ورک کا خاکہ پیش کرتے ہوئے جنید انوار چوہدری نے کہا کہ اگلے سو سالوں میں تین نئی گہری سمندری بندرگاہیں بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں جہاز رانی کے بیڑے کی جدید کاری، جہاز سازی اور ری سائیکلنگ کی سہولیات، گرین ٹیکنالوجیز کو اپنانا اور انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو اگلے سال تک پورٹ آپریشنز میں ضم کر دیا جائے گا تاکہ کارکردگی میں اضافہ ہو سکے۔فیری سروسز کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد سے کوئی فیری سروس لائسنس جاری نہیں کیا گیا، اس حکومت نے پہلا لائسنس جاری کیا ہے، ابھی مزید درخواستیں زیر غور ہیں جلد مزید لائسنسوں کا اجراء کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ایک جدید ترین ٹرمینل قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ عراق، ایران اور ابوظہبی کے لئے خدمات شروع کرنے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت نے ماضی میں بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا تاہم اب بہت سے مسائل کو حل کر لیا گیا ہے ۔ ’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ میری ٹائم سٹاف کے لئے سیمینارز اور ٹریننگ سیشنز کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں ماہی گیری کی ٹریننگ مہیا کرنے کے لئے ایک ہال کو باقاعدہ طور پر وقف کیا گیا ہے جس میں ماہی گیروں کے بچوں کو ماہی گیری کے جدید طریقوں کی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ معاش کو بہتر بنایا جا سکے۔