میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہماری بچیاں تعلیم کی طرف متوجہ ہورہی ہیں ،مجھے آج خوشی ہے کہ اس یونیورسٹی سے 3840 ہزار طالبہ ڈگریز اور میڈلز لے کر جارہی ہیں، آپ نے جب لوگوں کو صحیح راستہ دکھایا تو آپ کے ساتھ سب سے زیادہ جو کھڑی ہوئی وہ ام المومنین حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہاتھیں جنہوں نے اپنا سارا کچھ آپؐ کیلئے نچھاور کردیا،تعلیم …
میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہماری بچیاں تعلیم کی طرف متوجہ ہورہی ہیں ،گورنر پنجاب کا کانووکیشن کے موقع پر اپنے خطاب

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 12 مئی (اے پی پی):میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہماری بچیاں تعلیم کی طرف متوجہ ہورہی ہیں ،مجھے آج خوشی ہے کہ اس یونیورسٹی سے 3840 ہزار طالبہ ڈگریز اور میڈلز لے کر جارہی ہیں، آپ نے جب لوگوں کو صحیح راستہ دکھایا تو آپ کے ساتھ سب سے زیادہ جو کھڑی ہوئی وہ ام المومنین حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہاتھیں جنہوں نے اپنا سارا کچھ آپؐ کیلئے نچھاور کردیا،تعلیم کا ایک معاشرے میں بڑا رول ہوتا ہے یاد رکھیں پڑھی لکھی مائیں ہی پڑھی لکھی قومیں بناتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار( آج) منگل کوگورنر پنجاب و چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ (جی سی ڈبلیو یو ایس)سردار سلیم حیدر خان نے کانووکیشن کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ آج مجھے اس کانووکیشن میں اتنی بڑی تعداد میں ہماری بیٹیوں کی شرکت کو دیکھ کر بے حد خوشی محسوس ہوئی ہے، اتنی بڑی تعداد میں ہماری بیٹیوں نے میڈلز حاصل کیے اس پر میں بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چانسلر کے طور پر میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہماری بچیاں تعلیم کی طرف متوجہ ہورہی ہیں ،اس پر میں وائس چانسلر شازیہ بشیر اور ان کی ساری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری کامیابی کا سہرا وائس چانسلر شازیہ بشیر اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ یونیورسٹی کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے لیکن اس میں وائس چانسلر کی قیادت میں اساتذہ کی محنت نظر آرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے آج خوشی ہے کہ اس یونیورسٹی سے 3840 ہزار طالبہ ڈگریز اور میڈلز لے کر جارہی ہیں اور یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اکثر مختلف یونیورسٹیوں میں جاتا ہوں لیکن جو میں آج ٹیلنٹ دیکھا ہے اس پر میں بڑا خوش ہوا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ مجموعی طور پر3840 گریجویٹس کو اسناد عطا کی گئیں جن میں مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والی 3102 بی ایس، 35 بی ایڈ، 290 ایم اے / ایم ایس سی، 398 ایم ایس اور 13 پی ایچ ڈی کی طالبات شامل تھیں۔مزید برآں 377 طالبات کو اکیڈمک رول آف آنر سے نوازا گیا جبکہ 98 نمایاں طالبات میں طلائی اور نقرئی تمغے تقسیم کیے گئے۔ مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی دو طالبات کو علامہ اقبال گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔انہوں نے کہا کہ بیٹیوں اور بہنوں کی عزت کے بارے میں ہمارے نؐبی نے ہمیں بتایا ہے ، انہوں نے کہا کہ معاشرے میں آپ کے تین رول ہیں ماں ،بیٹی اور بہن کا، عورت کا اسلام میں ایک اہم مقام ہے، آپۖ نے جب لوگوں کو صحیح راستہ دکھایا تو آپؐ کے ساتھ سب سے زیادہ جو کھڑی ہوئی وہ ام المومنین حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہاتھیں جنہوں نے اپنا سارا کچھ آپؐ کیلئے نچھاور کردیا،ہر حالات کا مقابلہ کیا
اللہ نے اس اسلام کو پوری دنیا میں پھیلایا ،وہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا رول ماڈل ہیں اور ہماری بیٹیوں کو ان کی سیرت طیبہ بڑھیں گی تو یقیناً آگے بڑھنے میں ،عزت حاصل کرنے اور فتوحات حاصل کرنے میں بے پناہ مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہؒ نے جو مدد کی وہ آپ کے سامنے ہے، اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جب تشریف لاتیں تو آپؐ اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اور یہ ہمارے لیے ایک مثال ہے کہ عورت کی کیسے عزت کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے میں قائد اعظم محمد علی جناح کے ہمراہ فاطمہ جناح کا پاکستان بنانے میں بڑا کردار ہے جن کی وجہ سے آج ہم اپنے ملک میں سر اٹھا کر رہ رہے ہیں اور عزت و شان سے وقت گزار رہے ہیں ، اسی طرح پاکستان میں بھی میری قائد بے نظیر بھٹو شہید جو سیاست کا ایک عظم ستارہ ہیں اور آج دیکھا جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی صوبہ پنجاب کو بہتر انداز میں بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جو آپ نے گولڈ میڈلز جیتے ہیں اس سے اساتذہ کرام کی محنت نظر آرہی ہے،مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ بہت کم عرصہ میں امام بی بی کیمپس کو فعال کیا،آئی ٹی اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو فراہم کیا، تجربہ گاہوں اور کتب خانوں کی بہتری اور اپ گریڈیشن کیلئے آپ کے اساتذہ کرام کی انتھک محنت شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی شہر سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور عملہ کو مناسب سہولیات فراہم کرنے میں درپیش مشکلات کے باوجود پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 90 سے زائد کرکے تعلیمی میدان قابل تحسین ترقی حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بچیوں نے سپورٹس میں بھی کامیابی سمیٹی ہیں یہ میرے لیے فخر کی بات ہے اور میں وائس چانسلر صاحبہ کو کہتا ہوں کہ سپورٹس پر اور زیادہ توجہ دیں کیونکہ صحت مند سرگرمیاں صحت مند قوموں کیلئے انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے والدین کیلئے آسانیاں بانٹیں آپ ضرور کامیابی کی طرف گامزن ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں ہمیشہ اپنے اساتذہ کا اپنے والدین کی طرح احترام کریں ،جہاں کہیں نظر آئیں ان کو دیکھ اٹھ کر احترام کریں اگر آپ اساتذہ کی عزت کریں گی تو ضرور آپ کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن آپ کیلئے ایک بڑا دن ہے ،یاد رکھیں آگے جاکر آپ کیلئے نئی راہیں شروع ہوں گی اور یہاں سے جو تعلیم حاصل کی ہے اس کو آگے پھیلانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا ایک معاشرے میں بڑا رول ہوتا ہے یاد رکھیں پڑھی لکھی مائیں ہی پڑھی لکھی قومیں بناتی ہیں، یاد رکھیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی بہت ضروری ہے اور آپ کے کردار سے نظر آنا چاہیے کہ آپ ایک پڑھی لکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھیں اور پاکستان کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جنگی محاذ میں سیالکوٹ کے نوجوانوں کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا گیا ہے ، یہاں کے لوگ بہادر لوگ ہیں اور مجھے اس پر فخر ہے کہ یہ قوم اپنے ملک کی بقا کیلئے اپنی جانیں دینے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی نے تین تحقیقی جرائد شائع کرنے کامیابی حاصل کی فیکلٹی میں 23 سو سے زائد مضامین شائع کیے اور مجھے خوشی ہوئی کہ انڈر گریجوایٹ طالب علموں نے بھی بین الاقوامی کانفرنسوں میں حصہ لیا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ میں اپنی وہ ہستیاں موجود ہیں جن کا ثانی نہیں ہوسکتا اور ہمیں کسی اور کی مثال دینے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے وائس چانسلر ،اساتذہ کرام، والدین، طالبات، میڈیا نمائندگان اور دیگر حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔







