نئی نگران حکومت اور کابینہ کے اعلان کے بعد پالیسیوں کا اعلان ، پرامن اور مستحکم افغانستان اور پڑوسیوں ودیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ، افغا ن سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ، ہیبت اللہ اخوند

کابل۔7ستمبر (اے پی پی):امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت نے نئی نگران حکومت اور کابینہ کے اعلان کے بعد کلیدی پالیسیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کی نئی نگران حکومت ملک میں اسلامی قانون اور شریعت کے نفاذ ، ملک کے اعلیٰ ترین مفادات اور افغانستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور پائیدار سلامتی ، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر ے گی، …

کابل۔7ستمبر (اے پی پی):امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت نے نئی نگران حکومت اور کابینہ کے اعلان کے بعد کلیدی پالیسیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کی نئی نگران حکومت ملک میں اسلامی قانون اور شریعت کے نفاذ ، ملک کے اعلیٰ ترین مفادات اور افغانستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور پائیدار سلامتی ، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر ے گی، ہم پرامن ، خوشحال اور مستحکم افغانستان چاہتے ہیں ، ہم اپنے تمام پڑوسیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور بات چیت پر مبنی خوشگوار اور مضبوط تعلقات چاہتے ہیں، ہمسایہ ممالک ، خطے اور دنیا کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ۔

منگل کو یہاں جاری اپنے پیغام میں امارت اسلامیہ افغانستان کے امیر ہیبت اللہ نے غیرافواج کے انخلا اورقبضے کےخاتمہ پر قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے بیس سالہ جدوجہد میں کامیابی پر اللہ کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے ایک نگران کابینہ مقرر کی ہے اور اچھے انتظامی امور کو کنٹرول کرنے اور آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے ، جو ملک میں اسلامی قانون اور شریعت کے نفاذ ، ملک کے اعلیٰ ترین مفادات کو محفوظ بنانے ، افغانستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور پائیدار سلامتی ، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر ے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان پرامن ، خوشحال اور مستحکم ہو۔ اس مقصد کے لیے ہم افغان عوام کو پرامن اور محفوظ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام پڑوسیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور بات چیت پر مبنی خوشگوار اور مضبوط تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ انسانی اوراقلیتوں کے حقوق سمیت تمام طبقات کے حقوق کو یقینی بنائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ تمام افغان ملک میں باوقار ، محفوظ اور آرام دہ زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں ، ان کی جان ، مال اور ساکھ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ملک کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے لیے مذہبی اور جدید تعلیمات شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرے ۔ تعلیم کے میدان ہم ملک کو آگے لے کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک چالیس سال سے زائد عرصے سے جنگوں سے متاثر ہے اور ہماری معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

، ہم اپنی تمام توانائی لوگوں کو بااختیار بنانے ، خوشحالی اور معاشی ترقی پر خرچ کریں گے ، قومی سرمایہ کاری کو اچھے اور شفاف طریقے سے سنبھالیں گے ، عالمی سرمایہ کاری اور مختلف تجارتی شعبوں میں سہولت فراہم کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ہمارے لوگوں کو تمام ضروری سہولیات مہیا ہوں اور ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم غربت کے خاتمے اور معیشت کی مضبوطی کےلئے قومی تاجروں ، سرمایہ کاروں کی طرف سے مدد اور تعاون کے خواہاں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا ملک کا سب سے اہم عنصر ہے۔ ہم میڈیا کی آزادی کےلئے کام کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا اپنی نشریات میں اسلام کے مقدس قوانین قومی مفادات اور غیر جانبداری کا مظاہر ہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک ، خطے اور دنیا کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ۔

ہم تمام غیر ملکی سفارت کاروں ، سفارت خانوں ، قونصل خانوں ، خیراتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے دشمنی نہیں رکھنا چاہتے ہیں ، افغانستان ایک مشترکہ گھر ہے اور ہم ملک کی تعمیر نو کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ کو اپنے لوگوں کے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے ، تاکہ ہم اپنے تباہ حال ملک کو دوبارہ تعمیر کر سکیں اور اسلام کے اصولوں کے مطابق آرام دہ اور خوشحال زندگی گزار سکیں ۔

امیر ہیت اللہ اخوندزادہ نے کہا کہ باصلاحیت اور پیشہ ور ، تعلیم یافتہ سائنسدانوں ، پروفیسرز ، ڈاکٹروں ، سائنسدانوں ، انجینئروں سے امید ہے کہ اطمینان اور لگن کے ساتھ ملک کی خدمت کریں گے ۔