نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا قدرتی آفات کے خطرات، ان سے لاحق عدم تحفظ اور سماجی و اقتصادی نقصانات میں کمی کیلئے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے قدرتی آفات کے خطرات، ان سے لاحق عدم تحفظ اور سماجی و اقتصادی نقصانات میں کمی کے لئے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے قدرتی آفات کے خطرات، ان سے لاحق عدم تحفظ اور سماجی و اقتصادی نقصانات میں کمی کے لئے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفات کے خطرات میں کمی نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے تحت ضروری ہے بلکہ پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کے تحت پیشرفت کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے جاری بیان کے مطابق قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی آفات کے تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں بار بار آنے والے سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی، خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت شامل ہیں، حالیہ مون سون موسموں کے دوران شدید بارشوں کے نتیجے میں قیمتی جانوں اور روزگار کے ذرائع کا نقصان اس غیر متناسب موسمیاتی بوجھ کو اجاگر کرتا ہے جس کا پاکستان مسلسل سامنا کر رہا ہے حالانکہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے،ان تجربات نے آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات، ٹیکنالوجی پر مبنی حل اور جامع حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرنے کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی حکمت عملی برائے تخفیف آفات 2025-2030 کی رہنمائی میں حکومت پاکستان کثیرالجہتی خطرات سے نمٹنے کا طریقہ کار اختیار کئے ہوئے ہے جس میں قومی اور ذیلی قومی سطح پر روک تھام، تیاری اور لچک پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے، اس سلسلے میں مضبوط قومی نظاموں کے قیام اور آفات کے اثرات سے متاثرہ افراد کی ضروریات کے مطابق ردعمل دینے والے سماجی تحفظ کے اقدامات متعارف کرانے سمیت ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ نے کہا کہ آفات کے خطرات میں کمی کے لئے سینڈائی فریم ورک (2015-2030) سے ہم آہنگ ہماری پالیسیوں میں قبل از وقت انتباہی نظاموں کو مضبوط بنانے، ترقیاتی منصوبہ بندی میں خطرات کی تخفیف کو شامل کرنے اور ابھرتے ہوئے خطرات کی بہتر پیش گوئی اور ان سے نمٹنے کے لئے جدت اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کو ترجیح دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ دریائی طاسوں میں آفات کے خطرات کا انتظام بنیادی طور پر سرحد پار تعاون کا متقاضی ہے، اس لئے اس کی مؤثریت کا انحصار دریا سے منسلک ممالک کے درمیان تعاون، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور نافذ العمل معاہدوں اور سمجھوتوں کے مکمل احترام پر ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات میں کمی لانے اور ان سے مطابقت پیدا کرنے کے قابل بنانے کے لئے تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی معاونت کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جائے۔نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک زیادہ محفوظ، آفات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور پائیدار دنیا کی تعمیر کے لئے اپنی اجتماعی ذمہ داری کے اعادے میں تمام ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔