اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):نا مور ادیب ، شاعر اور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی برسی جمعرات 10 جولائی کو منائی گئی۔احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو خوشاب کے گاؤں انگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کااصل نام احمد شاہ تھا جب کہ ندیم تخلص تھا۔ احمد ندیم قاسمی نے شاعری، تنقید، افسانہ نگاری، بچوں کے ادب کے علاوہ انشائیے اور ڈرامےسمیت ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی …
نا مور ادیب ، شاعر اور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی برسی منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):نا مور ادیب ، شاعر اور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی برسی جمعرات 10 جولائی کو منائی گئی۔احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو خوشاب کے گاؤں انگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کااصل نام احمد شاہ تھا جب کہ ندیم تخلص تھا۔ احمد ندیم قاسمی نے شاعری، تنقید، افسانہ نگاری، بچوں کے ادب کے علاوہ انشائیے اور ڈرامےسمیت ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ان کی شاعری کی ابتدا1931 میں ہوئی اورمولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم اس وقت کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ’’سیاست‘‘کے سرورق پر شائع ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی نے نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوگئی ۔
انہوں نے افسانہ نگاراور شاعر کی حیثیت سے اس وقت شہرت حاصل کی جب بر اعظم پاک وہند میں ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ انہوں نے پہاڑوں کی برف، نصیب، لارنس آف تھیلیسیا، بھاڑا، بدنام جیسے افسانے تحریر کئے۔احمد ندیم قاسمی نے 50 سے زائد یادگار کتب بھی تحریر کیں جن میں کفن دفن، رئیس خانہ، موچی، خربوزے، ماسی گل بانو، ماں، آتش گل، نیلا پتھر، عاجز بندہ، بے گناہ، سلطان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006 کو لاہور میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا اورملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
احمد ندیم قاسمی کوآدم جی ادبی انعام برائے دشتِ وفا ،آدم جی ادبی انعام برائے محیط،آدم جی ادبی انعام برائے دوام ،عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈقطر،کمال فن ادبی ایوارڈ ،علامہ اقبال ایوارڈسمیت صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اورستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔۔ان کی برسی کے موقع پرعلمی و ادبی حلقوں نے ان کی شاندار خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔








