سڈنی۔16فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کی ٹینس کھلاڑی ڈیسٹینی ایوا نے محض 25 برس کی عمر میں پیشہ ورانہ ٹینس کو خیرباد کہنے کا اعلان کرتے ہوئے کھیل کے ماحول کو نسل پرستانہ، صنفی امتیاز پر مبنی، ہم جنس پرست مخالف اور معاندانہ قرار دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق ساموان نژاد آسٹریلوی کھلاڑی ڈیسٹینی ایوا نے انسٹاگرام پر جاری اپنے سخت الفاظ پر مبنی بیان میں کہا کہ ٹینس ان …
نسل پرستی اور نفرت انگیز کلچر کا الزام، ڈیسٹینی ایوا کا25 برس کی عمر میں ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

مزید خبریں
سڈنی۔16فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کی ٹینس کھلاڑی ڈیسٹینی ایوا نے محض 25 برس کی عمر میں پیشہ ورانہ ٹینس کو خیرباد کہنے کا اعلان کرتے ہوئے کھیل کے ماحول کو نسل پرستانہ، صنفی امتیاز پر مبنی، ہم جنس پرست مخالف اور معاندانہ قرار دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق ساموان نژاد آسٹریلوی کھلاڑی ڈیسٹینی ایوا نے انسٹاگرام پر جاری اپنے سخت الفاظ پر مبنی بیان میں کہا کہ ٹینس ان کے لیے ایک زہریلے بوائے فرینڈ جیسا بن چکا تھا اور موجودہ سیزن ان کا آخری سیزن ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ ہر روز جاگ کر یہ محسوس کر سکیں کہ وہ جو کر رہی ہیں اس سے حقیقی محبت رکھتی ہیں، اور ہر انسان اس موقع کا مستحق ہے۔ڈیسٹینی ایوا اپنے کیریئر میں سنگلز رینکنگ میں 147 ویں نمبر تک پہنچیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں آن لائن ٹرولز کی جانب سے نفرت انگیز پیغامات اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا رہا، جبکہ ان کے جسم، کیریئر اور ذاتی معاملات پر بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ٹینس کی دنیا میں سوشل میڈیا پر بدسلوکی کا مسئلہ پہلے بھی سامنے آ چکا ہے۔
برطانوی کھلاڑی کیٹی بولٹر نے گزشتہ برس بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں اپنے خلاف ہونے والی آن لائن بدسلوکی کو منظر عام پر لا کر اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا تھا۔اعداد و شمار کے مطابق، ڈیٹا سائنس فرم سِگنیفائی،ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024 کے دوران 458 ٹینس کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا پر تقریباً 8 ہزار توہین آمیز، پرتشدد یا دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے، جن میں سے بڑی تعداد بیٹنگ سے منسلک تھی۔
ڈیسٹینی ایوا نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹینس ایک ایسا کھیل ہے جو بظاہر شائستگی اور روایتی اقدار کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، مگر سفید لباس اور روایات کے پیچھے ایک ایسا کلچر چھپا ہے جو ان لوگوں کے لیے معاندانہ ہے جو مخصوص سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹینس نے انہیں دنیا گھومنے اور دوست بنانے کے مواقع دئیے، لیکن اس کے بدلے ان کی صحت، جسم سے تعلق، خاندانی زندگی اور خود اعتمادی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتیں کہ اگر موقع ملے تو کیا وہ یہ سب دوبارہ کریں گی، تاہم اس کھیل نے انہیں یہ ضرور سکھایا کہ نئی شروعات کا موقع ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔تاحال ٹینس حکام کی جانب سے ڈیسٹینی ایوا کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔








