نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ’’معرکۂ حق‘‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی رہنماؤں، سابق عسکری حکام، سفارت کاروں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، قومی یکجہتی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا
نسٹ میں ’’معرکۂ حق‘‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر سیمینار، سچ اور انصاف کی فتح ہوئی، پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا، مقررین

مزید خبریں
اسلام آباد۔8مئی (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ’’معرکۂ حق‘‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی رہنماؤں، سابق عسکری حکام، سفارت کاروں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، قومی یکجہتی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا
۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاک افواج نے ہمیشہ قومی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے دشمن کی پراکسی سرگرمیوں کا حکمت عملی کے تحت مؤثر جواب دیا، جس سے مخالفین پاکستان کی دفاعی اور تکنیکی صلاحیتوں سے حیران رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سیاسی و عسکری قیادت نے مکمل ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں کامیاب رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا مؤقف مؤثر انداز میں اجاگر ہوا۔
سینئر سیاستدان و تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق میں سچ اور انصاف کی فتح ہوئی، جس سے مسلم دنیا میں پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی فضائی برتری کے دعوؤں کو ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کو امن کے داعی ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں سراہا گیا ہے۔
سابق صدر آزاد کشمیر و سابق سفارتکار مسعود خان نے کہا کہ معرکۂ حق قومی تاریخ کا ایک اہم باب بن چکا ہے اور اس نے قوم میں اعتماد، اتحاد اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے دانشمندانہ حکمت عملی کے ذریعے صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے ذمہ دارانہ اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے قومی سلامتی کو یقینی بنایا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان قومی اتحاد، مضبوط دفاع اور فعال سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔








