نواب آف جونا گڑھ کا اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا دورہ ، ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں وکلااور شہریوں کی شہادت پر افسوس کااظہار کیا

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):نواب آف جونا گڑھ نواب علی مرتضیٰ خانجی نے ہفتے کو اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر ہونے والے افسوسناک بم دھماکے میں وکلااور شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔یہاں جاری بیان کے مطابق نواب آف جونا گڑھ نے اس موقع پر بار کی جانب سے جوناگڑھ کے مسئلے کو نوجوان وکلاءکے سامنے اجاگر …

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):نواب آف جونا گڑھ نواب علی مرتضیٰ خانجی نے ہفتے کو اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر ہونے والے افسوسناک بم دھماکے میں وکلااور شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔یہاں جاری بیان کے مطابق نواب آف جونا گڑھ نے اس موقع پر بار کی جانب سے جوناگڑھ کے مسئلے کو نوجوان وکلاءکے سامنے اجاگر کرنے کے لئے سیمینار کا بھی انعقاد کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر نواب نے وکلا کو ریاست جوناگڑھ کی قانونی حیثیت اور تاریخی حقائق بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق ایک تاریخی حقیقت ہے،جسے بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے عالمی فورمز پر جوناگڑھ کا کیس پیش کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دنیا کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔

نواب علی مرتضیٰ خانجی نے وکلابرادری سے اپیل کی کہ وہ جوناگڑھ کے کیس کو مختلف قانونی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں تاکہ انصاف اور تاریخی سچائی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جوناگڑھ کا کیس محض ایک علاقے کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی تکمیل اور تاریخی انصاف کا معاملہ ہے،جو ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔نواب علی مرتضیٰ خانجی نے کہا کہ ریاست جوناگڑھ ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک پاکستان کا حصہ رہی، کیونکہ 15 ستمبر 1947 کو قانونی اور خودمختار حکمران نواب محبت خانجی نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کئے تھے۔

جوناگڑھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان سے باضابطہ طور پر الحاق کرنے والی پہلی راجواڑہ ریاست تھی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے فروری اور مارچ 1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ اسی طرح 29 مئی 1951 کو پاکستان کے وزارت خارجہ نے دوبارہ موقف اختیار کیا کہ ریاست جموں و کشمیر اور ریاست جوناگڑھ اقوام متحدہ کے سامنے حل طلب تنازعات ہیں اور حکومت پاکستان ان علاقوں پر بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔

دریں اثنا مقررین نے زور دیا کہ جوناگڑھ کے مسئلے پر یونیورسٹیوں میں تحقیق کی جانی چاہیے تاکہ آن لائن بھارتی پراپیگنڈہ کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے، ریاست جوناگڑھ کے تاریخی اور قانونی دعوے کو محفوظ رکھا جا سکے اور عوامی شعور اجاگر کیا جا سکے۔بین الاقوامی قانون کے مطابق، جوناگڑھ کے نواب کو جلاوطن خودمختار کا درجہ حاصل ہے، جو اب بھی قائم ہے۔مقررین نے مرحوم سابق نواب جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے جوناگڑھ کے مسئلے کو زندہ رکھنے اور اسے عوامی توجہ دلانے میں اپنی کوششیں کیں۔

مقررین نے زور دیا کہ پوری پاکستانی قوم، خاص طور پر میڈیا، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو یہ یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جوناگڑھ کا مسئلہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں رہے۔مقررین میں نواب آف جوناگڑھ نواب علی مرتضیٰ خانجی،صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن واجد گیلانی، سیکرٹری جنرل اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن چوہدری منظور ججہ، ایڈووکیٹ آصف تنویر اعوان اور خ رکن اسلام آباد بار کونسل خورشید بٹ اور راجہ رضوان عباسی شامل تھے۔