اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ پاکستان مخالف ہے، ان کے بیانیے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، وہ بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اس میں کوئی شک شبے والی بات نہیں ہے، نواز شریف کے بیانیے کی وجہ سے ن لیگ ٹوٹ جائے گی، ن لیگ کے کئی لوگوں نے مجھے فون کر کے …
نواز شریف کا بیانیہ پاکستان مخالف ہے، ان کے بیانیے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر)اعجازشاہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ پاکستان مخالف ہے، ان کے بیانیے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، وہ بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اس میں کوئی شک شبے والی بات نہیں ہے، نواز شریف کے بیانیے کی وجہ سے ن لیگ ٹوٹ جائے گی، ن لیگ کے کئی لوگوں نے مجھے فون کر کے کہا کہ نواز شریف حدود عبور کر گئے ہیں اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان سے کہوں گا کہ وہ ن لیگی قائد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں، بھارت کو پاکستان کی ترقی اور سی پیک ہضم نہیں ہو رہا اسلئے وہ دہشتگردی کے ذریعے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ مل کر ملک دشمن عناصر کا مقابلہ کرے گی، نواز شریف جیت جائیں تو انتخابات شفاف اور اگر کوئی دوسرا جیت جائے تو انتخابات غلط، اگر فوج نے انتخابات میں دھاندلی کرائی تھی تو نواز شریف نے اپنی جماعت کے لوگوں سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے ووٹ ڈالنے کیلئے کیوں کہا، اپوزیشن نے گوجرانوالہ جلسے میں کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں، کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے، کیسز تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اسلئے ملک میں جلسے جلوس نہیں ہونے چاہییں۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج تک دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص نے اپنے ہی قومی اداروں پر تنقید کی ہو، قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بولنا ملک کے خلاف بولنے کے مترادف ہے، اگر نواز شریف کا یہی بیانیہ برقرار رہا تو حکومت ن لیگ پر پابندی لگانے پر غور کرے گی۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر لوگوں کو پتا ہوتا کہ نواز شریف گوجوانوالہ جلسے میں ایسی تقریر کریں گے تو اپوزیشن نے جو آدھا اسٹیڈیم بھرا تھا یہ بھی نہ بھرتا کیونکہ کوئی بھی پاکستانی قومی اداروں کے خلاف بیان بازی نہیں سن سکتا، ان کی تقریر سنتے ہی لوگ جلسہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے، فوج نے کورونا بحران اور ٹڈی دل حملے کے دوران بھی قومی فریضہ سر انجام دیا، حتیٰ کہ کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد نالوں کی صفائی اور کچرا اٹھانے کا کام بھی کیا، اگر سیاسی جماعتیں فوج کو الیکشن میں نہ بلائیں تو وہ نہیں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب وزیراعظم تھے اگر کوئی مسئلہ ہو جاتا تو ایل او سی پر خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو جاتا تھا، اب بھی ان کی تقاریر کے بعد گزشتہ پانچ دنوں میں 20 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 17 زخمی ہو چکے ہیں۔بریگیڈیئر (ر)اعجاز شاہ نے کہا کہ نواز شریف بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اس میں کوئی شک شبے والے بات نہیں ہے، وہ ملک دشمن لابنگ کے ساتھ رابطے میں ہیں، ان کے بیٹوں کی بھارت کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی ثابت ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ بھارتی میڈیا میں نواز شریف کی تقاریر کو سراہا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے قائد اور دیگر رہنماﺅں کے خلاف بغاوت کے مقدموں سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی تو اپوزیشن جماعتیں پیٹیشنز دائر کرتیں، 2013ءکے مقابلے میں 2018ءانتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے کم پیٹیشنز دائر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی 11 سال پہلے کی گئی تقریر سچ ثابت ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ تھا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئے گی تو نواز شریف اور آصف علی زرداری اکٹھے ہوجائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ کار ساز جب ہوا تھا تو کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنی صفائی پیش کی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیت اللہ مسعود ماسٹر پلان تھا، اس وقت میں نے بطور آئی بی چیف شواہد کے ساتھ صدر اور وزیراعظم کو خط بھی لکھا تھا کہ محترمہ بھٹو کو قتل کئے جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے گی، صوبوں نے ہر سال وفاق کو اربوں روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے خلاف کوئی نیا کیس نہیں بنا، شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے شوائد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور نیب چینی بحران کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بشیر میمن کے الزام کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیقات کرائیں اگر میں غلط ثابت ہوا تو وزارت چھوڑ دوں گا۔








