نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے ٹیکنالوجی و تحقیق پر مبنی اقدامات کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے، سینیٹر انوشہ رحمان

وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر و سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے ٹیکنالوجی و تحقیق پر مبنی اقدامات کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے، تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون سے آئی ٹی سیکٹر و تعلیم کے شعبوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے

لاہور۔14مئی (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر و سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے ٹیکنالوجی و تحقیق پر مبنی اقدامات کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے، تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون سے آئی ٹی سیکٹر و تعلیم کے شعبوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسزکے محققین کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں ڈاکٹر زرتاش ، افضل عظمٰی اور ڈاکٹر باسط شفیق سمیت دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں ڈیجیٹل جدت، آن لائن تعلیم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد پنجاب کے آئی ٹی اور تعلیمی شعبوں کو مضبوط بنانا ہے۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے کی پہلی جامع آئی ٹی پالیسی متعارف کروانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے جس کا مقصد جدت کو فروغ دینا، ڈیجیٹل لرننگ کو وسعت دینا اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو مستحکم کرنا ہے،اس پالیسی کے ذریعے نہ صرف آئی ٹی انڈسٹری کو تقویت ملے گی بلکہ تعلیمی اداروں کو بھی جدید تحقیق اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مستقبل کے معاشی اور صنعتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس کے لیے ہنر پر مبنی تعلیم، ٹیکنالوجی ٹریننگ پروگرامز اور ریسرچ پر مبنی اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور حکومت کے باہمی تعاون سے آئی ٹی اور تعلیم کے شعبوں کو مزید مضبوط، موثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے جس سے صوبے میں ڈیجیٹل ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ قبل ازیں لمز کے وفد نے بریفنگ میں بتایا کہ یونیورسٹی میں آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز، سکل بیسڈ کورسز، مائیکرو کریڈینشلز اور بوٹ کیمپس کے ذریعے طلبہ کو عملی مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے انٹر فار ڈیجیٹل ایسٹس ریسرچ ، بلاک چین ریسرچ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ تعلیمی ادارے اور حکومت مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہوئے آئی ٹی اور تعلیم کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے جو نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی