نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 15 صدارتی حکم ناموں پر دستخط کردیئے

واشنگٹن۔21جنوری (اے پی پی):نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 15 صدارتی حکم ناموں پر دستخط کردیئے ہیں،نئے امریکی صدر نے اپنے دورِ صدارت کا آغاز صدارتی حکم ناموں سے کیا ہے ، انہوں نے پہلے روز جن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کئے ان میں متنازع سفری پابندیوں کا خاتمہ، پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بحالی اور تمام وفاقی املاک میں لازمی ماسک پہننے کے بل پر دستخط بھی شامل ہیں۔ جمعرات …

واشنگٹن۔21جنوری (اے پی پی):نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 15 صدارتی حکم ناموں پر دستخط کردیئے ہیں،نئے امریکی صدر نے اپنے دورِ صدارت کا آغاز صدارتی حکم ناموں سے کیا ہے ، انہوں نے پہلے روز جن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کئے ان میں متنازع سفری پابندیوں کا خاتمہ، پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بحالی اور تمام وفاقی املاک میں لازمی ماسک پہننے کے بل پر دستخط بھی شامل ہیں۔ جمعرات کو امریکی ذرائع ابلاغ اور برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے زیادہ تر حکم نامے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کو ختم کرنے سے متعلق ہیں۔ جو بائیڈن کی جانب سے جاری صدارتی حکم نامے کے مطابق ملک بھر میں وفاقی مقامات اور بین الریاستی سفر کے دوران ہر فرد کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نئے صدر جو بائیڈن نے اپنے ابتدائی حکم نامے میں عالمی ادارہ صحت میں واپسی کا بھی اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ رخصت ہونے والے صدر ٹرمپ نے اس ادارے پر کورونا وائرس کے دوران چین کی سخت بازپرس نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن اقتدار میں آنے سے پہلے یہ کہہ چکے تھے کہ وہ اپنے دورِ صدارت کے پہلے دن پیرس ماحولیاتی معاہدے میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کریں گے اور انھوں نے اپنے ابتدائی حکم نامے میں اس معاہدے میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس عالمی معاہدے کا ایک بڑا مقصد دنیا کے درجہ حرارت کو قبل از صنعتی زمانے کے درجہ حرارت سے دو ڈگری سے زیادہ بڑھنے سے روکنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں طے پانے والے اس معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا اور امریکہ ایسا فیصلہ کرنے والا پہلا ملک تھا۔جو بائیڈن نے امیگریشن کے حوالے سے جو اہم وعدہ کیا تھا وہ ملک میں موجود ایک کروڑ دس لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے امریکی شہریت کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات تھے۔ سابق صدر ٹرمپ نے جنوری 2017 میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے سات دن بعد جن سفری پابندیوں کا اعلان کیا تھا، نئے صدر جو بائیڈن نے ان کا خاتمہ کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان پابندیوں کا نشانہ سات مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک بنے تھے تاہم بعد میں عدالتی احکامات کے بعد ان پابندیوں میں کچھ تبدیلیاں بھی لائی گئی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن، وینزویلا اور شمالی کوریا کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔ جو بائیڈن نے امیگریشن کے حوالے سے جو ایک اور اہم وعدہ کیا تھا وہ ملک میں موجود ایک کروڑ دس لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے امریکی شہریت کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات تھے۔ صدرجو بائیڈن نے سابق صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے منصوبے کو بھی روک دیا ہے۔بائیڈن انتظامیہ کے مطابق وہ دیوار کی تعمیر کی بجائے وفاقی رقوم کو سرحدی نگرانی کے نئے انتظامات پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ کی ماضی کی حکومتیں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرتی آئی ہیں لیکن اس کے باوجود جو بائیڈن اور ان کی نائب صدر کملا ہیریس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پر مذمتی بیانات جاری کیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اب اقتدار میں آنے کے بعد ان کے بیانات کس قسم کی عملی صورت اختیار کرتے ہیں۔