نیب نے 1999 میں اپنے قیام سے لیکر فروری 2023 تک 23 سال میں 883.58 ارب روپے کی وصولیاں کیں

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب ) نے 1999 میں اپنے قیام سے لیکر فروری 2023 تک 23 سال میں 883.58 ارب روپے کی وصولیاں کیں جبکہ گذشتہ اڑھائی سال مارچ 2023 سے اکتوبر 2025 کے دوران 8397.75 ارب روپے ریکورکرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور ریکوریوں کا تناسب 23 سال کی نسبت اڑھائی سال میں دس گنا زیادہ (947)فیصدرہا ہے۔اتوار کو جاری بیان کے مطابق نیب …

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب ) نے 1999 میں اپنے قیام سے لیکر فروری 2023 تک 23 سال میں 883.58 ارب روپے کی وصولیاں کیں جبکہ گذشتہ اڑھائی سال مارچ 2023 سے اکتوبر 2025 کے دوران 8397.75 ارب روپے ریکورکرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور ریکوریوں کا تناسب 23 سال کی نسبت اڑھائی سال میں دس گنا زیادہ (947)فیصدرہا ہے۔اتوار کو جاری بیان کے مطابق نیب کی اداراہ جاتی اصلاحات کے اعدادوشمار سامنے آگئے ہیں- نیب کے قیام 1999 سے فروری 2023 تک 23 سال میں 883.58 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں – گذشتہ ڈھائی سالوں مارچ 2023 سے اکتوبر 2025 کے دوران نیب نے 8397.75 ارب روپے ریکوری کر کے ریکارڈ قائم کیا ۔گذشتہ ڈھائی سالوں میں ریکوریزکا تناسب بہ نسبت 23 سالوں کے 10 گنا زیادہ (947 فیصد) ہے۔

گذشتہ ڈھائی سالوں میں نیب کو 15.33 ارب روپے بجٹ ملا، ہر ایک روپے کے بدلے 548 روپے کی ریکوری ہوئی- مجموعی طور پر نیب نے 9281.33 ارب روپے کی وصولی کی، نیب کو اس سال کے آخر تک مزید 2000 ارب روپے کی ریکوریز متوقع ہیں، یہ اصلاحات ترمیمی نیب قانون کی روشنی میں ادارے کی فعالیت اور افادیت بڑھانے کے لیے کی گئیں۔ نیب ہیڈکوارٹر اور ریجنل بیوروز میں شکایات سیل گوادر اور چمن میں سب آفس قائم ہیں۔تحقیق اور تربیت کے لیے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی ( پی اے سی اے ) کا قیام ،مدعا علیہ (ملزم) کو ہر مرحلے پر سماعت کا حق ہوگا اور فیصلے تک شناخت مخفی رکھی جائے گی۔

پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے اکاؤنٹیبلٹی فیسیلیٹیشن سیل (احتساب سہولت سیل) قائم کر دیا گیا۔ای آفس نظام متعارف اور کاروباری طبقے کے لیے بزنس فیسیلیٹیشن سیل قائم کر دیا گی۔ گواہوں کے بیانات الیکٹرانک طریقے سے ریکارڈ اور مالی شواہد کا تجزیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے ہوگا- کیسز میں غلطیوں یا کمی کو دور کرنے کے لیے ہائی لیول کمیٹی کی تشکیل دی ہے،اصلاحات کی وجہ سے ایک مہینے کے عرصے میں ابتدائی شکایات کی تعداد 2338 سے کم ہوکر1639 ہو گئی۔

لینڈ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے8 ہزار ارب روپےمالیتی 4.53 ملین ایکڑ سرکاری زمین بازیاب کرکےپونزی اسکیمز اور ہاؤسنگ فراڈ کے متاثرین کو 124.86 ارب روپے واپس کیے گئے۔118 ارب روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثوں پر مشتمل منی لانڈرنگ کے 21 بڑے مقدمات زیر تفتیش ہے۔ انسداد بدعنوانی میں بین الاقوامی تعاون کے لے مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں دستخط کی گئیں۔