نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کو آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، نیب اعلامیہ

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) 16 نومبر 1999ءکو قائم کیا گیا، اس کا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں جبکہ 8 علاقائی بیوروز نیب کراچی، نیب خیبرپختونخوا، نیب لاہور، نیب راولپنڈی، نیب بلوچستان، نیب سکھر، نیب ملتان اور نیب گلگت بلتستان ہیں۔ نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کو آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) 16 نومبر 1999ءکو قائم کیا گیا، اس کا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں جبکہ 8 علاقائی بیوروز نیب کراچی، نیب خیبرپختونخوا، نیب لاہور، نیب راولپنڈی، نیب بلوچستان، نیب سکھر، نیب ملتان اور نیب گلگت بلتستان ہیں۔ نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کو آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نیب اعلامیہ کے مطابق یہ نیب آرڈیننس 1999ءکے تحت کام کرتا ہے، قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیب کے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی مو¿ثر حکمت عملی کے ساتھ ساتھ کسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی کریں۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی جانب سے جاری کئے گئے کرپشن پرسپشن انڈیکس میں پاکستان کا 116واں نمبر ہے جو بہترین درجہ بندی ہے۔ نیب کے تحت کام کرتا ہے جس کا دائرہ اختیار فاٹا اور گلگت بلتستان تک ہے۔ نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے آگاہی اور تدارک پر مشتمل سہ جہتی حکمت عملی تشکیل دی ہے جس میں سرکاری عہدیداروں کے بدعنوانی میں ملوث ہونے سے روکنے ]پر زور دیا گیا ہے۔ نیب آرڈیننس بدعنوان عناصر سے نمٹنے اور مجرموں سے لوٹی گئی رقم وصول کرنے کا اہم قانون ہے اس لئے قانون کو انسداد بد عنوانی کا بہترین قانون قرار دیا گیا ہے اور دیگر ممالک میں بھی اسی قسم کی قانون سازی کی جا رہی ہے جوکہ پاکستان کیلئے باعث فخرہے۔

Leave a Reply