اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے بینکرز سٹی ہائوسنگ سکینڈل کے متاثرین کو تقریباً بیس سال بعد ایک ارب بیس کروڑ روپے سے زائد کی رقوم واپس کر کے عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔اس سلسلے میں منگل کو نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی ،جس میں نیب (اسلام آباد/راولپنڈی) کے تحت بینکرز سٹی ہائوسنگ سکیم فراڈ کے …
نیب کا عوامی اعتماد بحالی کی جانب بڑا قدم، بینکرز سٹی ہائوسنگ سکینڈل کے متاثرین کو بیس برس بعد 1.2 ارب روپے کی واپسی

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے بینکرز سٹی ہائوسنگ سکینڈل کے متاثرین کو تقریباً بیس سال بعد ایک ارب بیس کروڑ روپے سے زائد کی رقوم واپس کر کے عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔اس سلسلے میں منگل کو نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی ،جس میں نیب (اسلام آباد/راولپنڈی) کے تحت بینکرز سٹی ہائوسنگ سکیم فراڈ کے متاثرین کو بازیاب کرائی گئی رقوم واپس کی گئیں۔

تقریب کی صدارت چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کی۔تقریب میں ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتساب سید احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرلز، دیگر اعلیٰ افسران اور بڑی تعداد میں متاثرہ افراد نے شرکت کی۔
نیب کے مطابق بینکرز سٹی ہائوسنگ فراڈ 2006ء میں منظر عام پر آیا جبکہ 2007ء میں عوامی شکایات کی بنیاد پر اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ ہائوسنگ سوسائٹی نومبر 2003ء میں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کروائی گئی تھی اور یہ اسلام آباد، راولپنڈی اور ہری پور کے علاقوں پر مشتمل تقریباً 14 ہزار کنال اراضی پر محیط تھی۔تحقیقات میں سامنے آیا کہ سوسائٹی کی انتظامیہ نے جعلی دستاویزات، فرضی الاٹمنٹ اور گمراہ کن تشہیر کے ذریعے سینکڑوں شہریوں سے رقوم وصول کیں تاہم بعد ازاں انہیں زمین یا قانونی ملکیتی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
نیب نے جامع انکوائری کے بعد ملزمان سے 1209 ملین روپے کی رقم بازیاب کرائی جو مرحلہ وار 2200 متاثرین میں تقسیم کی جائے گی۔ تقریب میں 476 متاثرین کو مجموعی طور پر 341 ملین روپے واپس کیے گئے جن میں 316 متاثرین کو 120 ملین روپے پیمنٹ آرڈرز کے ذریعے جبکہ 160 متاثرین کو 221 ملین روپے آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے ادا کیے گئے۔نیب کے مطابق قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ متاثرین کو اصل سرمایہ کاری سے ڈھائی گنا زائد رقم واپس کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے نیب (اسلام آباد/راولپنڈی)، لاہور کی عدلیہ اور پراسیکیوٹر جنرل احتساب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی معاونت سے ایک ایسا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچا جسے متاثرین تقریباً مردہ سمجھ چکے تھے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ آج کا دن انصاف، احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ان کی محنت کی کمائی واپس دلانا نیب کی اولین ترجیح ہے اور نیب ہر اس عنصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو معصوم شہریوں کو دھوکہ دے کر ان کی جمع پونجی لوٹتے ہیں۔
چیئرمین نیب نے عوام پر زور دیا کہ وہ سرمایہ کاری سے قبل صرف منظور شدہ اور تصدیق شدہ ہائوسنگ سکیموں میں سرمایہ لگائیں۔تقریب کے آغاز میں ڈی جی نیب راولپنڈی نے کیس پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران نیب ٹیم نے متعدد مشکلات کے باوجود ضبط شدہ اثاثوں اور منجمد اکائونٹس کی نشاندہی کر کے متاثرین کو رقوم کی واپسی ممکن بنائی۔ انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات اور مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں یہ مرحلہ حاصل ہوا ہے اور ادائیگی کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رہے گا۔
نیب نے اعلان کیا کہ اس کیس میں نئے دعوے بھی تصدیقی عمل کے تحت وصول کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی جائز متاثرہ شخص محروم نہ رہے۔آخر میں چیئرمین نیب نے تفتیشی ٹیم کے ارکان میں تعریفی شیلڈز تقسیم کیں اور ان کے لیے عمرے کا اعلان بھی کیا۔ایک متاثرہ شخص نے جس کی مرحومہ اہلیہ نے بینکرز سٹی کی فائل خریدی تھی، بتایا کہ معاوضے کی اطلاع ملنے پر وہ اپنی بیوی کی قبر پر گیا اور کہا کہ اس اقدام نے ریاستی اداروں پر اس کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔ایک چینی شہری متاثرہ سرمایہ کار نے بھی نیب کے منصفانہ رویے اور تفتیشی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے انصاف کی فراہمی پراطمینان کا اظہار کیا۔








