اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (این یو ایم ایس) راولپنڈی کو این آر ای کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ امتحان کی ساکھ، دیانت داری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ این یو ایم ایس گزشتہ دو برسوں سے این آر ای منعقد کر رہی ہے اور پیپر سیٹنگ، کمپائلیشن اور حتمی نتائج کے اعلان کی ذمہ دار ہے۔ این آر ای …
نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز راولپنڈی کو این آر ای کے انعقاد کی ذمہ داری سونپ دی گئی
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (این یو ایم ایس) راولپنڈی کو این آر ای کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ امتحان کی ساکھ، دیانت داری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ این یو ایم ایس گزشتہ دو برسوں سے این آر ای منعقد کر رہی ہے اور پیپر سیٹنگ، کمپائلیشن اور حتمی نتائج کے اعلان کی ذمہ دار ہے۔ این آر ای دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اور کم از کم سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے جو منظور شدہ این آر ای معیارات، ساخت اور نصاب کے مطابق ہوتا ہے۔
یہ تمام معلومات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔این آر ای کا انعقاد پاکستان میں ایم بی بی ایس /بی ڈی ایس کے مساوی نصاب کے مطابق کیا جاتا ہے۔ امیدواروں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی شکایات یا تحفظات آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کروائیں۔ نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) خصوصی طور پر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (این یو ایم ایس) راولپنڈی کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔
این آر ای سٹیپ-I کے لیے پیپر سیٹنگ، امتحان کے انعقاد، جانچ، کمپائلیشن اور نتائج کے اعلان سمیت تمام ذمہ داریاں این یو ایم ایس کے پاس ہیں۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کا این آر ای کے پیپر کی تیاری، امتحان کے انعقاد یا نتائج کی تیاری میں کوئی براہِ راست کردار نہیں ہے۔این آر ای کے نتائج سے متعلق پالیسی واضح اور متعین ہے۔ این یو ایم ایس بروقت امتحان کے انعقاد اور نتائج کا اعلان کرتی ہے۔
حالیہ این آر ای سٹیپ-I کے نتائج پی ایم اینڈ ڈی سی کی ویب سائٹ پر شائع کر دیئے گئے ہیں جبکہ تفصیلی نمبرز پی ایم اینڈ ڈی سی کے سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے بھی دستیاب ہیں۔ این آر ای کے لیے کامیابی کا معیار 60 فیصد ہے اور اس میں نیگیٹو مارکنگ نہیں ہے۔مزید برآں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں امیدواروں کو نتائج کی ری ٹوٹلنگ کے لیے درخواست دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ دسمبر 2025ء میں منعقد ہونے والے این آر ای کے لیے صرف دو امیدواروں نے ری ٹوٹلنگ کی درخواستیں جمع کروائیں۔
بطور قومی ریگولیٹری اتھارٹی پی ایم اینڈ ڈی سی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ امتحانی عمل کے کسی بھی مرحلے پر کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا گیا۔ تمام طریقہ کار مضبوط اور شفاف انداز میں انجام دیے جاتے ہیں تاکہ انصاف، جوابدہی اور قومی و بین الاقوامی بہترین معیارات سے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتحان کی شفافیت سے متعلق تمام الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (ایف ایم جیز) کے لیے نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت ایک لازمی تقاضا ہے جس کا مقصد پاکستان میں طبی و دندان سازی کی تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل میں شفافیت، معیار بندی اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا ہے۔









