نیویارک کی سڑکوں پر ڈیجیٹل ٹرکوں کے ذریعے کشمیر کی آزادی کے حق میں پیغامات نشر

اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):؎نیویارک شہر کے مختلف اہم مقامات پر ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ ٹرکوں کے ذریعے ’’کشمیر کو فراموش نہیں کیا گیا: 5 فروری ۔ یومِ یکجہتی‘‘ کے پیغامات نشر کئے گئےیہ ٹرک اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر، ٹائمز سکوائر، فریڈم ٹاور، سینچری ٹیل پارک اور اقوام متحدہ میں غیر ملکی مشنز کے اطراف سے گزرے۔ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے …

اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):؎نیویارک شہر کے مختلف اہم مقامات پر ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ ٹرکوں کے ذریعے ’’کشمیر کو فراموش نہیں کیا گیا: 5 فروری ۔ یومِ یکجہتی‘‘ کے پیغامات نشر کئے گئےیہ ٹرک اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر، ٹائمز سکوائر، فریڈم ٹاور، سینچری ٹیل پارک اور اقوام متحدہ میں غیر ملکی مشنز کے اطراف سے گزرے۔ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ یہ موبائل ٹرک، جو ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل سکرینوں سے لیس ہیں، روزانہ تقریباً 40 سے 50 ہزار افراد تک پیغام پہنچاتے ہیں، جن میں سفارت کار، سیاح، مبصرین اور عام امریکی شامل ہیں۔

ان کی موجودگی ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ کشمیری اکیلے نہیں ہیں اور عالمی کشمیری برادری ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی تنازعہ کشمیر پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے جبکہ یہ تنازع جوہری تصادم کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کی سنگینی کے مطابق توجہ نہیں دی جا رہی۔

واشنگٹن میں قائم ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم (WKAF) کی جانب سے کرائے پر لیے گئے ان ڈیجیٹل ٹرکوں پر احتساب اور عالمی ذمہ داری سے متعلق پیغامات بھی نشر کیے گئے، جن میں ’’کشمیر میں نسل کشی: کشمیری رائے شماری کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘، ’’سب کے لیے آزادی: کشمیر کے لیے آزادی‘‘، ’’بھارت کشمیر میں صحافتی آزادی کو جرم بنا رہا ہے‘‘، ’’بھارتی افواج قتل و غارت میں مصروف: کشمیر کو آزاد کیا جائے‘‘، ’’کشمیر کو وجودی خطرہ لاحق: امریکا کو کردار ادا کرنا چاہیے‘‘، ’’کشمیری بھارتی قبضے کو مسترد کرتے ہیں: اقوام متحدہ کی قرارداد ہی واحد حل‘‘اور ’’مودی کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم ہے‘‘شامل تھے۔

ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میر نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر، جس کی تجویز 1990 میں مرحوم قاضی حسین احمد نے دی تھی، آج کشمیری اور پاکستانی عوام تمام سیاسی و مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مناتے ہیں۔ کشمیری نژاد امریکی سکالر ڈاکٹر امتیاز خان نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کی جانب سے زمینوں پر قبضے تشویشناک رفتار سے جاری ہیں، جس سے کشمیری عوام کو ان کی جائیداد وں سے محروم کیا جا رہا ہے اور خطے کا سماجی تانا بانا متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض بیانات کا وقت گزر چکا ہے اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کے مطابق عملی اقدامات، بشمول مذمت اور پابندیوں، پر غور کرنا چاہیے۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) شمالی امریکا کے چیف ترجمان راجہ مختار نے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور پرامن حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔ کشمیر مشن، امریکا کے وائس چیئرمین سردار تاج خان نے زور دیا کہ بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام کو باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔

کشمیر امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن (KAWA) کے صدر سردار ظریف خان نے کہا کہ عالمی کشمیری برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرے اور بالخصوص امریکی پالیسی سازوں کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے۔ نوجوان کشمیری رہنما سردار ساجد سوار نے اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق بامعنی اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں تنازعات کشمیر کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون کے احترام اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے عزم کی تجدید شامل ہونی چاہیے۔

کشمیر امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن (KAWA) کے جنرل سیکرٹری سردار شعیب ارشاد نے کہا کہ عالمی کشمیری شخصیات نے اقوام متحدہ کے اداروں، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ تعمیری روابط جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے پرامن، قانونی اور جامع طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن سردار سوار خان نے کہا کہ عالمی امن کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر کو جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں۔

مسئلہ کشمیر کا حتمی اور پائیدار حل نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی ضمانت دے گا بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ معروف انسانی حقوق کے کارکن سید رضا حسن نے کہا کہ انصاف، بات چیت اور بین الاقوامی قانون کا احترام جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور سماجی ترقی کے لئے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کو بھلایا نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے فراموش ہونے دیا جائے گا ۔امریکنز آف گلگت (ہیریٹیج) کے رہنما نسیم گلگتی نے کہا کہ اس ڈیجیٹل مہم نے ایک بنیادی حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ حل طلب مسئلہ کشمیر بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور کشمیر کے لیے انصاف جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن سے جدا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنی اخلاقی حیثیت استعمال کرتے ہوئے بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت کے ساتھ امن عمل شروع کروانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

کشمیر امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر فنانس سردار زبیر خان نے کہا کہ امریکی پالیسی سازوں کو کشمیر کےزمینی حقائق سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے کانگریس اراکین کی حمایت حاصل کرنی چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کیا جا سکے۔ کشمیر ہاؤس، واشنگٹن کے صدر راجہ لیاقت کیانی نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے شہری آبادی پر روزانہ کی بنیاد پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری شخصیات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرے ۔

مزید خبریں