نیو ٹیک کی 2 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی تربیت مکمل

نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیو ٹیک) نے مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں 2,000 نوجوانوں کو تربیت فراہم کی ہے

اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیو ٹیک) نے مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں 2,000 نوجوانوں کو تربیت فراہم کی ہے جن میں سے 1,703 نے بین الاقوامی سرٹیفکیشن حاصل کی جبکہ 70 فیصد کو روزگار بھی ملا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تربیت ہواوے کے اشتراک سے کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے بنیادی تصورات، کلاؤڈ آرکیٹیکچر اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی اصولوں پر مشتمل تھی۔

پروگرام کے تحت 1,703 شرکاء نے بین الاقوامی سرٹیفکیشن حاصل کی جبکہ 70 فیصد کو ملازمتیں مل گئیں۔اس اقدام کے تحت 2,000 شرکاء کو معروف تربیتی اداروں بشمول سائبر وژن، کوروٹ (Corvit) اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہور کے ذریعے تربیت دی گئی۔ مجموعی شرکاء میں سے 1,703 نے کامیابی کے ساتھ بین الاقوامی سرٹیفکیشن حاصل کی، جس کے نتیجے میں سرٹیفکیشن کامیابی کی شرح 85.15 فیصد رہی۔دستاویز کے مطابق پروگرام نے 70 فیصد روزگار کی شرح حاصل کی، جبکہ فارغ التحصیل افراد کی اوسط ماہانہ آمدنی 87,298 روپے ریکارڈ کی گئی، جو پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے میں جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتی ہے۔پائلٹ منصوبے کو روزگار کے حصول پر خصوصی توجہ کے ساتھ تیار کیا گیا تھا، جس میں ملازمت کے حصول کی شرح 60 سے 80 فیصد کے درمیان رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اس میں تکنیکی تربیت کے ساتھ ساتھ سافٹ اسکلز کی تربیت بھی شامل کی گئی تاکہ شرکاء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنایا جا سکے۔دستاویز کے مطابق بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے تمام تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ روزگار کی تصدیق کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ پائلٹ مرحلے کی کامیابی کے بعد تربیت کے اگلے مرحلے کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ٹیکنالوجی اسناد فراہم کرنے اور ملک کو علم پر مبنی معیشت کی جانب منتقل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔سرٹیفکیشن اور روزگار کے مضبوط نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مہارتوں کے خلا کو پُر کرنے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔