نیپال میں حالیہ مٹی کے تودے گرنے اور شدید بارشوں سے مالی سال 27-2026 کے دوران ملکی معیشت شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔شہنوا کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی)نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نیپال کی معاشی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہ سکتی ہے۔
نیپال میں مٹی کے تودے گرنے اور شدید بارشوں سے ملکی معیشت متاثر ہونے کا امکان ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

مزید خبریں
کھٹمنڈو۔23ستمبر (اے پی پی):نیپال میں حالیہ مٹی کے تودے گرنے اور شدید بارشوں سے مالی سال 27-2026 کے دوران ملکی معیشت شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔شہنوا کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی)نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نیپال کی معاشی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہ سکتی ہے۔آفات کی وجہ سے سڑکوں، پلوں، پن بجلی کے منصوبوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سے تجارت، سیاحت، زراعت اور مقامی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی ۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نیشنل پلاننگ کمیشن اور نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی مشترکہ تکنیکی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ”ریپڈ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ ” (RDNA) رپورٹ کے مطابق ان آفات سے تقریباً 2.69 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے تقریباً 4.77 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ تعمیرِ نو پر ہونے والے اخراجات سے معیشت کو دوبارہ چلانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ پن بجلی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری بھی معاشی سرگرمیوں کو بڑھا سکتی ہے ۔تاہم، تعمیرِ نو کی کوششیں سرکاری مالیات پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہیں کیونکہ حکومت سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے اور پیداواری صلاحیت کی بحالی کے لیے اخراجات بڑھا رہی ہے۔ توقع ہے کہ مالی سال 27-2026 میں عوامی قرضوں میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ تعمیرِ نو اور بحالی کے عمل کے لیے اضافی وسائل اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ نیپال کے قرضوں میں اس وقت نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا جب ملک نے 2015 کے زلزلے کے بعد تعمیرِ نو کے لیے ملکی اور غیر ملکی قرضے حاصل کیے تھے۔ مالی وسائل کی زیادہ ضروریات کے باوجود، نیپال قرضوں کے بحران کے کم خطرے سے دوچار ہے ۔
.







