بون۔19مارچ (اے پی پی):ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ نے وائس آف امریکا کی بندش کو ڈرامائی صورت حال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات پوری دنیا کے آزاد میڈیا پر بھی مرتب ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے لئے وفاقی فنڈنگ میں کٹوتی کے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد وہاں ملازمتوں میں کٹوتیوں کا …
وائس آف امریکا کی بندش کے اثرات پوری دنیا کے آزاد میڈیا پر مرتب ہوں گے، ڈائریکٹر جنرل ڈی ڈبلیو

مزید خبریں
بون۔19مارچ (اے پی پی):ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ نے وائس آف امریکا کی بندش کو ڈرامائی صورت حال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات پوری دنیا کے آزاد میڈیا پر بھی مرتب ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے لئے وفاقی فنڈنگ میں کٹوتی کے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد وہاں ملازمتوں میں کٹوتیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
سن 1942 میں قائم ہونے والے امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا اور ریڈیو فری یورپ سمیت کئی میڈیا آؤٹ لیٹس بندش کے دہانے پر ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ادارے غیر ضروری طور پر پھیلے ہوئے اور پرانے ہو چکے ہیں۔جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ڈرامائی صورتحال ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر میں آزاد میڈیا پر بھی مرتب ہوں گے۔
میں وائس آف امریکا ، ریڈیو فری یورپ اور پورے ‘یو ایس اے جی ایم‘ کے ساتھیوں کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ ڈی ڈبلیو کا عملہ اور ہم سب صدمے میں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب ہم صرف یکجہتی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال سے نمٹ لیں گے۔ یہ واقعی افسوسناک ہے کہ ہمارے ان ساتھیوں کے ساتھ کیا ہوا، جن کے ساتھ ہم نے گزشتہ دہائیوں میں قریبی تعاون کیا۔پر اگ میں قائم ریڈیو فری یورپ کے سربراہ جیمی ایم فلائےنے اس فیصلے کو امریکا کے دشمنوں کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ قرار دیا ہے۔








