اسلام آباد ۔ 26 اگست (اے پی پی) کچھی کینال بلوچستان میں آب پاش زراعت کی ترقی اور غربت کے خاتمے کی بدولت صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں شدت پسندی کے تدراک کے لئے بہت اہم ہے، منصوبے کی اہمیت کے پیشِ نظر واپڈا نے کچھی کینال فیز۔ون کے باقی کاموں کی تعمیر کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ فیز۔ون کے بقیہ کاموں کے تحت 3سال کی …
واپڈا نے کچھی کینال فیز۔ون کے باقی کاموں کی تعمیر کا مرحلہ شروع کر دیا فیز۔ون کے بقیہ کاموں کے تحت 3سال کی مدت میں 40کلو میٹر طویل پختہ مین کینال اور 32کلو میٹر طویل ذیلی نہروں پر مشتمل آبپاشی کا نظام تعمیر کیا جائے گا، ڈیرہ بگٹی ضلع میں مزید 30 ہزار ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو سکے گی، چیئرمین واپڈا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 اگست (اے پی پی) کچھی کینال بلوچستان میں آب پاش زراعت کی ترقی اور غربت کے خاتمے کی بدولت صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں شدت پسندی کے تدراک کے لئے بہت اہم ہے، منصوبے کی اہمیت کے پیشِ نظر واپڈا نے کچھی کینال فیز۔ون کے باقی کاموں کی تعمیر کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ فیز۔ون کے بقیہ کاموں کے تحت 3سال کی مدت میں 40کلو میٹر طویل پختہ مین کینال اور 32کلو میٹر طویل ذیلی نہروں پر مشتمل آبپاشی کا نظام تعمیر کیا جائے گا جس کے بعد ڈیرہ بگٹی ضلع میں مزید 30 ہزار ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو سکے گی۔ اِن خیالات کا اظہار چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے آج کچھی کینال کے دورے کے موقع پر کیا۔ جنرل منیجر (سنٹرل) واٹر عطا اللہ میمن اور پراجیکٹ ڈائریکٹرسید اختر علی شاہ بھی اِس دوران موجود تھے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ واپڈا تین سال قبل کچھی کینال فیز۔ون کے تحت 363 کلو میٹر طو یل مین کینال اور اِس سے متصل آبپاشی کا نظام اگست 2017 ء میں مکمل کر چکا ہے۔جس کے ذریعے 72ہزار ایکڑ زمین سیراب کی جاسکتی ہے۔ اپنے دورے میں چیئرمین واپڈا نے کہا کہ اِن کے لئے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں واقع کچھی کینال کے کمانڈایریا میں 52 ہزار ایکڑ اراضی پر کاشت کاری شروع کی جاچکی ہے۔جو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے پسماندہ علاقوں میں لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اْنہوں نے اْمید ظاہر کی کہ بلوچستان کی حکومت باقی 20ہزار ایکڑ اراضی کو بھی بہت جلد ہموار کر دے گی جس کے بعد اِس اراضی پر بھی فصلیں کاشت کی جائیں گی۔چیئرمین واپڈا نے مزید کہا کہ واپڈا نے کچھی کینال کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی فزیبلٹی رپورٹس تیار کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ قبل ازیں جنرل منیجر (سنٹرل) واٹرعطا اللہ میمن نے چیئرمین واپڈا کو منصوبے کے پہلے مرحلے کے باقی کاموں کی تعمیر جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کی فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری بارے پیش رفت سے آگاہ کیا۔کچھی کینال منصوبہ بلوچستا ن میں زراعت، زرعی شعبہ سے متعلق صنعت کے فروغ کے ساتھ ساتھ صوبے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔کچھی کینال پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں واقع تونسہ بیراج سے نکلتی ہے اور اِس کا کمانڈ ایریا صوبہ بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، بولان اور جھل مگسی میں واقع ہے۔ اِس منصوبے کی تعمیر تین مختلف مراحل میں مکمل ہوگی۔








