وفاقی دارالحکومت میں بارش کے باعث شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے، بارش کے پانی کی بروقت نکاسی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے سی ڈی اے سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں۔ہفتہ کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی اے سینیٹیشن کی ٹیمیں بارش کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب اور ٹریفک کی صورتحال کی مسلسل نگرانی …
اسلام آباد میں بارش، سی ڈی اے کی سینیٹیشن ٹیمیں فیلڈ میں متحرک، نکاسی آب اور ٹریفک کی نگرانی جاری
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں بارش کے باعث شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے، بارش کے پانی کی بروقت نکاسی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے سی ڈی اے سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں۔ہفتہ کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی اے سینیٹیشن کی ٹیمیں بارش کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب اور ٹریفک کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ نالوں، ڈرینز، انڈر پاسز اور نشیبی و حساس مقامات کی خصوصی مانیٹرنگ بھی جاری ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے سینیٹیشن،اسلام آباد واٹر،ایمرجنسی اور ریسکیو کےافسران و عملے کو فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے صورتحال کی سخت نگرانی اور فوری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ بارش کے پانی کی بروقت نکاسی میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ پانی کھڑا ہونے والے مقامات پر فوری نکاسی آب کے لیے ضروری آپریشنز جاری رکھے جائیں۔سی ڈی اے نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ مزید مؤثر بنانے اور بارش کے دوران شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،حساس مقامات پر خصوصی نگرانی کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کے آپریشنز بھی مسلسل جاری ہیں۔
سی ڈی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ تیز بارش کےدوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خصوصاً نشیبی علاقوں اور انڈر پاسز میں جانے سے اجتناب کریں۔ شہری بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔سی ڈی اےکےمطابق ہنگامی صورتحال میں شہری سینیٹیشن، ایمرجنسی اور ریسکیو ڈیپارٹمنٹس سے فوری رابطہ کرسکتے ہیں۔
ہنگامی مدد کے لیے 1122، 16 اور 1334 نمبرز پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت، محفوظ ٹریفک کی روانی، شہریوں کو بروقت ریلیف اور بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔








