ورلڈ ایتھلیٹکس کا بیلاروس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی عالمی اولمپک کمیٹی کی تجویز مسترد کرنے کا اعلان
ورلڈ ایتھلیٹکس کا بیلاروس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی عالمی اولمپک کمیٹی کی تجویز مسترد کرنے کا اعلان
جنیوا۔8مئی (اے پی پی):عالمی ایتھلیٹکس کے نگران ادارے ورلڈ ایتھلیٹکس نے بیلاروس کے کھلاڑیوں اور ٹیموں کو ان کے قومی پرچم تلے مقابلوں میں شرکت کی اجازت دینے سے متعلق بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے تمام بین الاقوامی کھیلوں کی فیڈریشنز اور منتظمین کو مشورہ دیا تھا کہ بیلاروس کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کا موقع دیا جائے، جبکہ روس پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں۔
آئی او سی کا موقف تھا کہ بیلاروس کی اولمپک کمیٹی اولمپک چارٹر کی پاسداری کر رہی ہے اور اس کے کھلاڑیوں نے حالیہ عالمی مقابلوں میں بطور غیر جانبدار کھلاڑی بہترین روئیے کا مظاہرہ کیا ہے۔تاہم ورلڈ ایتھلیٹکس کے ترجمان نے اس تجویز پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مارچ 2022 میں روس اور بیلاروس پر عائد کی گئی پابندیاں برقرار رہیں گی۔ ورلڈ ایتھلیٹکس کونسل کا کہنا ہے کہ جب تک روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں امن مذاکرات کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی، تب تک ان ممالک کے کھلاڑیوں، عہدیداروں اور معاون عملے کو کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب روس کے حوالے سے آئی او سی کا کہنا ہے کہ ڈوپنگ کے مسائل اور ماسکو لیبارٹری کے ڈیٹا سے متعلق جاری تحقیقات کی وجہ سے روس کی واپسی فی الحال ممکن نہیں ہے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے حال ہی میں تین سو سے زائد روسی کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث روسی اولمپک کمیٹی کی معطلی برقرار رہے گی۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لاس اینجلس اولمپکس 2028 اور سرمائی یوتھ اولمپکس 2028 کے کوالیفائنگ راؤنڈز کا آغاز ہونے والا ہے۔ ورلڈ ایتھلیٹکس کے اس فیصلے سے بیلاروس کے ایتھلیٹس کی ان بڑے مقابلوں میں شرکت ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔ بیلاروس اور روس پر پابندیوں کے حوالے سے عالمی کھیلوں کی دنیا دو گروہوں میں تقسیم نظر آتی ہے، جہاں فیفا اور ورلڈ ایکواٹکس جیسے ادارے پابندیاں نرم کرنے کے حق میں ہیں، وہیں یوکرین اور ورلڈ ایتھلیٹکس اسے غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔









