ورچوئل انویسٹر روڈشو ملک میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے اہم سنگ میل ہے، خرم شہزاد

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور ڈیبٹ مینجمنٹ آفس وزارت خزانہ کے اشتراک سے منعقدہ ورچوئل انویسٹر روڈشو ملک میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے اہم سنگ میل ہے، پاکستان محض وقتی یا موقع پرستانہ سرمایہ کاری کے بجائے عالمی سطح کے حقیقی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں …

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور ڈیبٹ مینجمنٹ آفس وزارت خزانہ کے اشتراک سے منعقدہ ورچوئل انویسٹر روڈشو ملک میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے اہم سنگ میل ہے، پاکستان محض وقتی یا موقع پرستانہ سرمایہ کاری کے بجائے عالمی سطح کے حقیقی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں نے کہاکہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور ڈیبٹ مینجمنٹ آفس وزارت خزانہ و محصولات کے اشتراک سے منعقدہ ورچوئل انویسٹر روڈشو پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی میں غیر معمولی اور تاریخی سطح کی شمولیت کا مظہرہے،روڈشو میں 225 سرمایہ کاروں نے شرکت کی جو حالیہ برسوں میں پاکستان کے لیے منعقد ہونے والی سب سے بڑی، متنوع اور ادارہ جاتی وزن رکھنے والی سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی ملاقاتوں میں سے ایک تھی، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ حقیقی سرمایہ کاری کرنے والے عالمی سرمایہ کاروں کی اتنی وسیع تعداد ایک ہی منظم فورم پر اس پیمانے پر اکٹھی ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ روڈشو کی قیادت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کی،وزیرخزانہ نے معاشی استحکام، ڈھانچہ جاتی اصلاحات، بیرونی توثیق اور واضح طور پر بہتر ہوتے ہوئے معاشی منظرنامے پر مبنی پاکستان کی ابھرتی ہوئی سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آئندہ آر ایف پیز کے ذریعے بیرونی مارکیٹ سے فنانسنگ کے منصوبوں پر واضح پیشگی رہنمائی بھی فراہم کی۔انہوں نے کہاکہ شرکا کی اکثریت غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں پر مشتمل تھی جن میں عالمی اثاثہ جاتی منیجرز، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، خودمختار و ریاست سے وابستہ ادارے، کارپوریٹس، ہائی نیٹ ورتھ انفرادی سرمایہ کار اور کثیرالجہتی مالیاتی ادارے شامل تھے،سرمایہ کاروں کی یہ شمولیت طویل المدت سرمایہ رکھنے والے سنجیدہ سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کی بحال ہوتی ہوئی معاشی اور اصلاحاتی سمت کا گہرائی سے جائزہ لینے کا مظہر تھی۔انہوں نے کہاکہ روڈشومیں شامل غیر ملکی سرمایہ کار دنیا کے تمام بڑے مالیاتی خطوں شمالی امریکا/امریکا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا وبحرالکاہل کے ممالک سے سے شریک ہوئے جو عالمی سطح پر پاکستان میں وسیع دلچسپی کا واضح اشارہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شرکا میں دنیا کے چند سب سے بڑے اور بااثر اثاثہ جاتی منیجرز شامل تھے جو مجموعی طور پر 35 کھرب امریکی ڈالر سے زائد کے اثاثوں کا انتظام کررہے ہیں، اس سطح کی شرکت ایک طاقتور پیغام ہے کہ پاکستان محض وقتی یا موقع پرستانہ سرمایہ کاری کے بجائے عالمی سطح کے حقیقی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ اس قدر وسیع شرکت سرمایہ کاروں کے تاثر میں ایک واضح تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، معاشی استحکام مضبوط ہو چکا ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے، مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے، بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے اور زرمبادلہ کی منڈی مستحکم ہوئی ہے،اصلاحات قابل پیمائش اور عملی شکل اختیار کر چکی ہیں،ٹیکس نظام کی جدید کاری، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، سرکاری اداروں میں اصلاحات، ضابطہ جاتی آسانیاں اور ڈیجیٹلائزیشن اب ارادوں سے نکل کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ملک کی معیشت اورمعاشی سمت پربیرونی توثیق میں اضافہ ہو رہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی پابندی، کثیرالجہتی اداروں کی دوبارہ شمولیت اور بہتر ہوتے ہوئے مالیاتی ذخائر پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ روڈشو پاکستان میں سرمایہ کار ی کے حوالہ سے ایک سنگ میل ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر دنیا کے سنجیدہ ترین سرمایہ کاروں کی نظر میں آ چکا ہے اور اصلاحات پر مبنی بحالی اور درمیانی مدت میں ترقی کے امکانات پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

یہ محض ایک معمول کی سرمایہ کار وں کی ملاقات نہیں بلکہ پاکستان پر عالمی اعتماد کی تجدید کا ایک تاریخی اور واضح اشارہ تھی۔مشیرخزانہ نے کہاکہ روڈشو وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی قیادت میں مسلسل سرمایہ کار روابط کے سلسلے کا آغاز ہے جس کے ذریعے پاکستان اصلاحات کو مزید گہرا کرے گا، مالیاتی تحفظ کو مضبوط بنائے گا اور معاشی استحکام کو بلند، پائیدار ترقی اور دیرپا سرمایہ کاری کے مواقع میں تبدیل کرے گا۔