کراچی ۔12جنوری (اے پی پی):پاکستان سٹاک ایکسچینج نے وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے اشتراک سے ڈاکٹر شمشاد اختر آڈیٹوریم میں پبلک ڈیبٹ پر پیر کو خصوصی سیشن کا انعقاد کیا۔ اس سیشن میں بینکوں، بروکریج ہاؤسز، اثاثہ جات مینجمنٹ کمپنیوں، سٹیٹ بینک آف پاکستان ، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل اور متعلقہ اداروں کی نمائندہ تنظیموں پی ایس بی اے، مفاپ اور ایف میپ کے …
وزارتِ خزانہ اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کے اشتراک سے پبلک ڈیبٹ پر خصوصی سیشن کا انعقاد

مزید خبریں
کراچی ۔12جنوری (اے پی پی):پاکستان سٹاک ایکسچینج نے وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے اشتراک سے ڈاکٹر شمشاد اختر آڈیٹوریم میں پبلک ڈیبٹ پر پیر کو خصوصی سیشن کا انعقاد کیا۔ اس سیشن میں بینکوں، بروکریج ہاؤسز، اثاثہ جات مینجمنٹ کمپنیوں، سٹیٹ بینک آف پاکستان ، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل اور متعلقہ اداروں کی نمائندہ تنظیموں پی ایس بی اے، مفاپ اور ایف میپ کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔ سیشن کا مقصد قرضہ جاتی نظم و نسق کی حکمتِ عملیوں اور مارکیٹ اصلاحات پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینا تھا۔
پبلک ڈیبٹ سیشن میں اہم شخصیات کی جانب سے جامع اور بصیرت افروز پریزنٹیشنز دی گئیں جن میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرخ ایچ سبزواری، وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد، ڈیبٹ مینجمنٹ کے مشیر عمر ایم خان اور وزارتِ خزانہ کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک ڈیبٹ خالق الزمان شامل تھے۔ پروگرام میں حکومت کے 2026 کے وژن اور مجوزہ اقدامات کو اجاگر کیا گیا اور اندرونی و بیرونی قرضہ جات سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
مقررین نے قرضہ جاتی نظم و نسق کے پس منظر میں معاشی اشاریوں میں بہتری کا جائزہ پیش کیا اور 2025 کے دوران پبلک ڈیبٹ کے اجرا میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اہم اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا۔سیشن میں شریعہ کمپلائنٹ اجرا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اس کی ثانوی مارکیٹ ٹریڈنگ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات پر بھی گفتگو کی گئی، جبکہ ٹریڈڈ والیمز کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا۔
پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کا ایک متحرک سیشن منعقد ہوا جس میں شرکاء نے کھل کر آراء پیش کیں اور تعمیری تجاویز دیں۔اس موقع پر وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہاکہ پاکستان کی قرضہ جاتی نظم و نسق کی حکمتِ عملی شفافیت اور پائیداری پر مضبوطی سے قائم ہے۔ 2026 میں داخل ہوتے ہوئے ہماری توجہ مارکیٹ اصلاحات کو مزید آگے بڑھانے اور قرضہ جاتی نیلامیوں کو مؤثر اور شفاف انداز میں منعقد کرنے پر مرکوز رہے گی، تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مستحکم ہو اور معاشی استحکام کو تقویت ملے۔
ڈیبٹ مینجمنٹ کے مشیر عمر ایم خان نے کہاکہ یہ وقت عملدرآمد کا ہے۔ انہوں نے وزیرِ خزانہ کا حوالہ دیتے ہوئے اندرونی اور بیرونی قرضہ جاتی نظم و نسق کے اہم اہداف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مارکیٹ کے شرکاء کو نئی تجاویز پیش کرنے اور جدید شریعہ کمپلائنٹ مصنوعات تیار کرنے کی ترغیب دی تاکہ طے شدہ اہداف کے حصول کے ساتھ سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے مؤثر قیمتوں کے تعین میں معاون مارکیٹ میکنزمز کو سراہا اور کہا کہ یہ اصلاحات شفافیت اور پائیداری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ ایچ سبزواری نے وزارتِ خزانہ، کیپیٹل مارکیٹ کے انفراسٹرکچر اداروں اور مارکیٹ شرکاء کے مابین مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔تقریب کا اختتام ایک جامع اور بامقصد تبادلۂ خیال اور سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جو حکومت اور مالیاتی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط شراکت داری کے فروغ کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔








