وزارتِ خزانہ نے حالیہ خودمختار مالیاتی لین دین سے متعلق خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا

وزارتِ خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق گردش کرنے والی میڈیا رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اطلاعات نامکمل، حقائق کے برعکس اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہیں۔

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے خودمختار مالیاتی لین دین خصوصاً یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس اور عوامی تبصروں پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض رپورٹس حقائق کے برعکس، نامکمل معلومات پر مبنی اور اہم تناظر سے عاری ہیں۔

اتوار کو وزارت خزانہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق یورو بانڈ اور پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ دونوں کے اجرا کے دوران تمام متعلقہ قانونی، ضابطہ جاتی، خریداری اور منظوری کے تقاضے مکمل طور پر پورے کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ صرف شرحِ سود یا مدت کی بنیاد پر مختلف مالیاتی معاملات کا موازنہ کرنا گمراہ کن ہے۔ خودمختار مالیاتی فیصلے متعدد عوامل کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، جن میں قیمت، مدت، بروقت اور یقینی تکمیل، انڈر رائٹنگ، مجموعی لاگت، کریڈٹ اسپریڈ، مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کی درمیانی مدت کی قرضہ انتظامی حکمتِ عملی سے مطابقت شامل ہیں۔وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت ہمیشہ ایسے مالیاتی آپشن کا انتخاب کرتی ہے جو قیمت، مدت، بروقت تکمیل، وقت اور خطرات کے درمیان بہترین توازن فراہم کرے اور قومی قرضہ انتظامی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ادارہ جاتی تقرریوں سے متعلق انتظامی معاملات کا خودمختار مالیاتی لین دین کی قانونی حیثیت یا گورننس سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس اور فنانس ڈویژن کے پاس ایسے معاملات کو تمام قوانین اور ضابطوں کے مطابق مؤثر انداز میں انجام دینے کی مکمل صلاحیت اور مہارت موجود ہے۔ وزارتِ خزانہ نے خبردار کیا کہ غلط اور گمراہ کن معلومات کی تشہیر سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے، بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، مستقبل میں قرض لینے کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور ملک کے اہم مالیاتی اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عوامی مباحثہ تصدیق شدہ حقائق، مکمل معلومات اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر مبنی ہونا چاہیے۔وزارتِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شفافیت، پیشہ ورانہ معیار اور محتاط قرضہ انتظام کے اعلیٰ اصولوں پر کاربند رہے گی اور خودمختار مالیاتی فیصلے صرف پاکستان کے بہترین معاشی اور تذویراتی مفاد میں کیے جائیں گے۔