وزارتِ صحت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری نے شرکت کی۔تقریب کے دوران شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور اور چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔
وزارتِ صحت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):وزارتِ صحت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری نے شرکت کی۔تقریب کے دوران شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور اور چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت شیخ زید ہسپتال لاہور میں 10 بستروں پر مشتمل جدید چلڈرن ایمرجنسی یونٹ قائم کیا جائے گا۔ ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق جدید یونٹ کا مقصد ایمرجنسی میں آنے والے بچوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔معاہدے پر شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور کی جانب سے چیئرپرسن و ڈین پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں شیخ جبکہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احسن ربانی نے دستخط کئے۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کی اموات میں کمی لانے کے لئے ایسے جدید مراکز وقت کی اشد ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، بچوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی اور ایمرجنسی کیئر کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا انتہائی ضروری ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن اور شیخ زید انسٹی ٹیوٹ کے درمیان یہ شراکت داری بچوں کی ایمرجنسی صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری کا باعث بنے گی۔انہوں نے کہا کہ جدید چلڈرن ایمرجنسی یونٹ کے قیام سے بچوں کو فوری، معیاری اور مؤثر طبی امداد کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صحت کے شعبے میں مزید بہتری لائی جائے گی اور چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ یہ تعاون بھی اسی وژن کا حصہ ہے جس کے ذریعے بچوں کی ایمرجنسی کیئر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں، ہسپتالوں میں معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔








