وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے اپنی دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بجٹ میں نمایاں اضافہ، دونوں حکومتوں کو بااختیار بنانے، پاکستان میں لاگو ہونے والے تمام قوانین و قواعد بشمول انتخابی قانون 2017ءکا گلگت بلتستان کے ہونے والے عام انتخابات میں اطلاق اور سکردو میں 250 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر، …

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے اپنی دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بجٹ میں نمایاں اضافہ، دونوں حکومتوں کو بااختیار بنانے، پاکستان میں لاگو ہونے والے تمام قوانین و قواعد بشمول انتخابی قانون 2017ءکا گلگت بلتستان کے ہونے والے عام انتخابات میں اطلاق اور سکردو میں 250 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر، توانائی کے مختلف منصوبوں کی شروعات وزارت کی کارکردگی میں شامل ہیں۔ وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق وزارت میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لئے پلاننگ مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے،سیاحت کے فروغ کے لئے ٹورسٹ سہولیات مراکز قائم کئے گئے ہیں،آزادکشمیر کے عبوری آئین 1974میں تیرہویں ترمیم کے ذریعے آزاد جموں وکشمیر کونسل کے اختیارات قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر کو دیئے گئے۔تمام فریقین کی مشاورت سے گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019 تیار کئے گئے اوریہ سپریم کورٹ کو ارسال کئے گئے جس نے وفاق پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔سکردو میں 26 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا وزیر اعظم عمران خان نے 2019 یکم نومبر کو افتتاح کیا۔ دو نوں علاقوں میں عوامی مسائل کی آگاہی کے لئے وزارت میں فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے۔ جی بی میں ٹورازم پولیس بنائی گئی۔2018 سے 2020 تک گلگت بلتستان میں کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کی مد میں رائیلٹی فیس سے 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی آمدن ہوئی،گلگت بلتستان میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کےلئے گلگت بلتستان کی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھرپور معاونت وسہولت فراہم کی گئی۔فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گلگت بلتستان میںگریڈ 16 اور اس سے اوپر کی 115 آسامیوں پر بھرتیوں کا پراسیس کیا گیا۔سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام 2017 میں 43 ارب روپے تھا جو بڑھا کر 2020 میں 52 ارب روپے کر دیا گیا۔آزاد کشمیر میں صحت سہولت کارڈ شروع کیا گیا ہے،جس میں 80 ہزار مستحق خاندان رجسٹرڈ ہوئے۔آزاد کشمیر میں ستمبر 2019 میں آنے والے زلزلہ کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لئے فنڈز فراہم کئے گئے۔بابو سر ٹاپ سمیت تمام شاہراہوں کو لینڈ سلائیڈنگ یا برف کی وجہ سے فوری کھولنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔5 اگست کے بھارتی اقدام جس میں میں کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کی گئی اور کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا اس کے خلاف وذارت نے یوم سیاہ منانے سمیت اہم اقدامات اٹھائے، 5 فروری کو وزیر امور کشمیر خود کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کوہالہ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانے آئے۔کونسل کے فنڈز کی سرمایہ کاری سے 30 کروڑ روپے حاصل کئے گئے۔ آزاد کشمیر کے لائن آف کنٹرول کے ساتھ بسنے والے بھارتی فائرنگ کے متاثرین کے لئے 3 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے متاثرہ آبادی کی بحالی کا پروگرام شروع کیا گیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایل او سی پیکیج کے لئے مستفید ہونے والوں میں 13 ہزار سے زائد مستحقین کو شامل کیا گیا۔یونیورسٹی آف بلتستان کا چارٹرڈ جاری کیا گیا۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایکو ٹورسٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔