وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا سینیٹ میں تحریک التواءکا جواب دیتے ہوئے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پٹرولیم اور گیس اتھارٹی کو صوبائی نگرانی سے الگ کرنے کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے زیر غور ہے لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے حقوق کے حوالے سے اسے زیادہ قابل عمل بنانے کیلئے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پٹرولیم و گیس اتھارٹی کو صوبائی …

اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پٹرولیم اور گیس اتھارٹی کو صوبائی نگرانی سے الگ کرنے کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے زیر غور ہے لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے حقوق کے حوالے سے اسے زیادہ قابل عمل بنانے کیلئے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پٹرولیم و گیس اتھارٹی کو صوبائی نگرانی سے الگ کرنے کے حوالے سے سینیٹ میں تحریک التواءکا جواب دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر صوبے کے پاس اس صوبے کے معاملات سے نمٹنے کیلئے اپنی کمپنی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کے اپنے مسائل ہیں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ اور سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ پبلک لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، جن کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کی رضامندی لینا ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے اور بالخصوص درآمدی گیس کی صورت میں گیس کی ترسیل کیلئے ایک ٹرانسمیشن کمپنی کی ضرورت ہے اور دنیا بھر میں یہ چیز رائج ہے،اسی لئے ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک اور معاملہ وزارت پٹرولیم میں ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشنز کا تھا جو صوبائی نمائندگی کیلئے اٹھارویں ترمیم کے بعد شامل کیا گیاہے۔

Leave a Reply