اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت بدھ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا جس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کابینہ کو امریکی قیادت کے حالیہ بیانات کے پس منظر اور گذشتہ روز کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کے 17ویں اجلاس میں ہونے والے تبادلہ خیالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کی قومی …
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت بدھ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا جس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کابینہ کو امریکی قیادت کے حالیہ بیانات کے پس منظر اور گذشتہ روز کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کے 17ویں اجلاس میں ہونے والے تبادلہ خیالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کے موقف کی متفقہ طور پر تائید کی جس نے گذشتہ روز اپنے 17ویں اجلاس میں امریکی قیادت کے حالیہ بیانات پر گہری مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ کابینہ نے اس رائے کا اظہار کیا کہ امریکی بیانات سے دونوں ملکوں کے درمیان نسلوں کے تعلقات متاثر ہوئے۔ کابینہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شراکت دار بننے کے نتیجہ میں ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ کابینہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو پوری دنیا نے تسلیم کیا۔ کابینہ نے افغان پناہ گزینوں کیلئے 31 دسمبر 2017ءکے بعد پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز اور پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے مابین سہ فریقی معاہدہ کی توسیع کی تجویز پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد کابینہ نے پی او آر کیلئے صرف 30 دن کی توسیع دینے کی منظوری دی اور فیصلہ کیا کہ یو این ایچ سی آر اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ افغان پناہ گزینوں کی جلد وطن واپسی کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان کی معیشت نے عرصہ دراز سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کا بوجھ اٹھا رکھا ہے اور موجودہ حالات میں یہ بوجھ مزید نہیں اٹھایا جا سکتا۔







