وزیراعظم عمران خان بارہا دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر چکے ہیں، بھارت کے عزائم واضح ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر اور داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کا موقع تلاش کر رہا ہے، بھارت نے جارحیت کی تو پاکستان دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان بارہا دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر چکے ہیں، بھارت کے عزائم واضح ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر اور داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے مسلسل لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) پر سیز فائر قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور …

اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان بارہا دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر چکے ہیں، بھارت کے عزائم واضح ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر اور داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے مسلسل لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) پر سیز فائر قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور فالس فلیگ آپریشن کا موقع تلاش کر رہا ہے، بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، جارحیت کی تو پاکستان دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ مل کر اس کو بھرپور جواب دے گی، بھارت آزاد کشمیر کے موسم کا حال بتانے کی بجائے مقبوضہ وادی سے لاک ڈائون ختم کرے، پاکستان نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے، بعض عناصر افغانستان میں امن نہیں چاہتے، جو عناصر سلامتی کے خلاف ہیں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو ٹیسٹنگ استعداد کار کے مطابق مرحلہ وار واپس لایا جا رہا ہے اور اب تک 25 ہزار کے قریب لوگ واپس آ چکے ہیں، ابھی بھی ایک لاکھ سے زائد لوگ واپس وطن آنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور عید کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کو خوشخبری دیں گے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ مسافروں کے بیرون ممالک جانے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے، غیرملکی فلائٹس یہاں سے مسافروں کو لیکر جا سکتی ہیں البتہ بیرون ممالک سے مسافروں کو لانے پر پابندی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بتدریج بگڑتی جا رہی ہے اور بھارت کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے، بھارت کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے اور اس نے گزشتہ سال 5 اگست سے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے، لوگوں کو وہاں صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں، پاکستان کا موقف ہے کہ دنیا نوٹس لے اور کشمیریوں کی مدد کرے، بھارت آزاد کشمیر کے موسم کا حال بتانے کی بجائے مقبوضہ وادی سے لاک ڈائون ختم کرے۔ معاون خصوصی قومی سلامتی نے کہا کہ بھارت نے اگر جارحیت کی تو پاکستان دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوتھے جنیوا کنونشن آرٹیکل 59 کے تحت بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی ماہرین، انسانی حقوق کمیشن کے ماہرین اور مبصرین کو مقبوضہ وادی میں جانے کی اجازت دے تاکہ وہاں لوگوں کو خوراک سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کے مسائل اٹھا رہا ہے تاکہ دنیا ان کی مدد کرنے کیلئے آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے، پاکستان نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ انٹراافغان ڈائیلاگ آگے بڑھیں، امید ہے کہ افغانستان میں جلد امن ہو گا، بعض عناصر افغانستان میں امن نہیں چاہتے، جو عناصر سلامتی کے خلاف ہیں، پاکستان ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا۔

مزید خبریں