مظفرآباد۔ 5 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے ذریعے ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جانے والوں سے مفاہمت نہیں ہو سکتی، جمہوریت جتنی بھی بری حالت میں ہو تب بھی وہ سب سے بہتر نظام ہے، بدعنوان عناصر کے خلاف میری یہ لڑائی ذاتی نہیں بلکہ پاکستان کے لئے ہے، کرپشن کی وجہ سے دنیا میں بھرپور وسائل رکھنے کے باوجود بہت …
وزیراعظم عمران خان کا آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
مظفرآباد۔ 5 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے ذریعے ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جانے والوں سے مفاہمت نہیں ہو سکتی، جمہوریت جتنی بھی بری حالت میں ہو تب بھی وہ سب سے بہتر نظام ہے، بدعنوان عناصر کے خلاف میری یہ لڑائی ذاتی نہیں بلکہ پاکستان کے لئے ہے، کرپشن کی وجہ سے دنیا میں بھرپور وسائل رکھنے کے باوجود بہت سے ممالک پیچھے رہ گئے جبکہ شفافیت کی بنیاد پر دنیا نے ترقی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک ڈیموکریٹ ہوں اور میں اقتدار کے لئے ڈیموکریٹ نہیں دنیا کی تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت جتنی بھی بری حالت میں ہو تب بھی وہ سب سے بہتر نظام ہے، علامہ اقبال اور شاہ ولی اللہ کہتے تھے کہ مغرب میں جمہوریت آئی اور وہ خوشحال ہوئے جبکہ مسلمانوں میں بادشاہت کی وجہ سے یہ پسماندہ رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں بہتر جمہوریت ہے وہاں خوشحالی زیادہ ہے اور غربت کم ہے، دنیا کے نظام کا جائزہ لیں تو جن ممالک میں جمہوریت ہے وہ آگے بڑھ گئے اور جن ممالک میں بادشاہت تھی، میرٹ، مفاہمت اور ڈسکشن نہیں تھی وہ پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک میں آپ کے ساتھ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے سب سے خوشحال ممالک دیکھیں اور دوسری طرف غریب ترین ممالک کا جائزہ لیں تو یہ خوشحالی اس لئے نہیںہے کہ اللہ نے انہیں زیادہ وسائل دئیے ہیں یا غریب ممالک کے پاس وسائل نہیں ہیں، جتنے خوشحال ممالک ہیں وہاں شفافیت ہے، بدعنوانی نہیں جبکہ غریب ممالک کے پاس سب سے زیادہ وسائل ہیں تاہم کرپشن کی وجہ سے وہ غریب ترین ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی میرے گھر میں چوری کرتا ہے اور کرپشن کرتا ہے تو کیا میں ان سے مفاہمت کر لوں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر کو کہا کہ آپ نے بھی کچھ شعر پڑھے ہیں جبکہ میں بھی ایک شعر پڑھتا ہوں کہ ”مفاہمت نہ سکھاجبر ناروا سے مجھے، میں سربکف ہوں کہ لڑا دوں کسی بلا سے مجھے“۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدعنوان لوگ جو کرپشن کر کے پیسے باہر لے گئے ان سے مفاہمت کا مجھے نہ کہا جائے۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ ایک ایک ادارے میں کرپشن کی داستانیں سامنے آتی ہیں، یہ ذاتی لڑائی نہیں بلکہ ملک کی لڑائی ہے۔ چین کی ترقی کے پیچھے 450سے زائد وزراءکو جیلوں میں ڈالنا ہے جبکہ امریکہ میں تیس تیس سال بعدکرپشن کرنے والوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔








