اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کا مشکل فیصلہ کاروبار میں آسانی اور بیورو کریسی کو ضابطہ کی غلطیوں پر نیب کی پکڑ سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے، اس حوالے سے اتفاق رائے اہم ہے، معاشی استحکام کیلئے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں …
وزیراعظم عمران خان کا سرکاری افسران سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کا مشکل فیصلہ کاروبار میں آسانی اور بیورو کریسی کو ضابطہ کی غلطیوں پر نیب کی پکڑ سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے، اس حوالے سے اتفاق رائے اہم ہے، معاشی استحکام کیلئے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھا، نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیورو کریسی کا کردار محدود ہو گیا تھا، نیب آرڈیننس میں ترمیم کا فیصلہ کاروبار میں آسانی اور بیورو کریسی کو ضابطہ کی غلطیوں پر نیب کی پکڑ سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار نیب کے دائر اختیار میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ نیب آرڈیننس میں ترمیم کے تفصیلی فیصلہ کا جائزہ لئے بغیر واویلا مچایا گیا ہے، اس حوالے سے اتفاق رائے اہم ہے کیونکہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزرا ہے، معیشت کے حوالے سے 2019ء ایک مشکل سال تھا کیونکہ قرضوں کی وجہ سے بڑے چیلنجز درپیش رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، کرنسی پر دبائو اور قیمتوں میں اضافہ جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، 2008ء سے 2018ء تک 10 سال کے عرصہ میں ملک پر 24 ہزار ارب روپے کے قرضے چڑھے ہیں، ٹیکس محصولات سے ہونے والی ملکی آمدن کا آدھا حصہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے ملک میں سرمائے میں بڑھوتری کی ضرورت ہے، یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی، صنعتیں چلیں گی اور زرعی پیداوار بڑھے گی، اس مقصد کے لئے رکاوٹیں دور کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشی استحکام کیلئے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، نیب آرڈیننس میں ترمیم انہی کوششوں کا حصہ ہے، کاروباری معاملات میں نیب کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے، اس حوالے سے چیئرمین نیب کو پیغام بھی بھجوایا ہے کیونکہ ہمیں ملکی مسائل کے حل کے لئے کاروبار اور گورننس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی ہوں گی۔ وزیراعظم نے 50 لاکھ گھروں کا ہدف حاصل کرنے سے متعلق کہا کہ حکومت اس سلسلہ میں بیورو کریسی سے تعاون کی توقع رکھتی ہے، موجودہ حکومت کے پرعزم ہائوسنگ پروگرام سے 40 متعلقہ صنعتوں کو فروغ ملے گا، کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی اور تاجر برادری کو نیب کے دبائو سے تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 90 لاکھ پاکستانی تارکین وطن ملک کیلئے اثاثہ ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سرمایہ کار چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکار ہیں جو اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء میں معیشت مستحکم کرنے کے بعد اب حکومت 2020ء میں گروتھ اور ترقی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے اور صنعتی اور زرعی ترقی میں اضافہ پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔








