اسلام آباد ۔ 25 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے پاک چین سدا بہار تزویراتی معاون شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین ہمارا قریب ترین دوست اور ''آئرن برادر'' ہے، سی پیک موجودہ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا، دورہ چین ہمارے دوطرفہ روابط میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا کرنے میں معاون ہو گا۔ انہوں …
وزیراعظم عمران خان کا چین روانگی سے قبل بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے پاک چین سدا بہار تزویراتی معاون شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین ہمارا قریب ترین دوست اور ”آئرن برادر” ہے، سی پیک موجودہ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا، دورہ چین ہمارے دوطرفہ روابط میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا کرنے میں معاون ہو گا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو چین روانگی سے قبل اپنے ایک بیان میں کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کے لئے اپنے اچھے دوستوں صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے اس امر پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین دوطرفہ تعلقات نہ صرف مفادات میں ہم آہنگی پر مبنی ہیں بلکہ ان کی جڑیں ماضی کے مشترکہ تجربات اور باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم میں پیوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دوستی اب ہمارے عوام کے دل و دماغ میں جاگزیں ہے، یہ کسی علاقائی اور بین الاقوامی پیش ہائے رفت سے متاثر نہیں ہو گی۔ وزیراعظم نے پاکستان کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کے لئے چین کی ٹھوس اور غیر متزلزل حمایت پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم بنیادی مفاد کے حامل تمام ایشوز پر چین کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے چین کے سب کے لئے مفید تعاون اور مشترکہ منزل پر مبنی پر امن دنیا کے وژن اور صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے حامل اور ترقی کے نئے ماڈل کی پرزور انداز میں تائید کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری ”بی آر آئی” کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، سی پیک میری حکومت کی اولین ترجیح رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ہم سماجی و اقتصادی ترقی، ملازمتیں پیدا کرنے، روزگار کے منصوبوں اور خصوصی اقتصادی زونز سمیت زراعت اور صنعتی تعاون پر مشترکہ طور پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے پاک چین تعلقات کو مزید تقویت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کا دورہ ہمارے دوطرفہ روابط میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا کرنے میں معاون ہو گا۔








