اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کی ترقی کے لئے مراعات و سہولیات کا اعلان کرتے ہوئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی مختص کردی ہے، پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی گھر تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی، قرضے کی صورت میں مارک اپ کی شرح پانچ مرلہ مکان کے …
وزیراعظم عمران خان کا ہاﺅسنگ، تعمیرات و ترقی کے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد اظہار خیال
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کی ترقی کے لئے مراعات و سہولیات کا اعلان کرتے ہوئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی مختص کردی ہے، پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی گھر تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی، قرضے کی صورت میں مارک اپ کی شرح پانچ مرلہ مکان کے لئے پانچ فیصد اور 10 مرلہ مکان کے لئے 7 فیصد ہو گی، این او سی اور دیگر سہولیات کے لئے صوبوں کے ساتھ مل کر ون ونڈو آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، سستے گھروں کی تعمیر پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے، گھر کی خریداری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، تمام لوگ 31 دسمبر تک حاصل سہولیات سے ہر ممکن استفادہ کریں، ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کی ترقی دینے سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ہاﺅسنگ، تعمیرات و ترقی کے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور مشکلات حائل تھیں جنہیں دور کرنے کے لئے قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے مختلف جہتوں میں کام کیا جا رہا ہے، گھروں کے لئے قرضوں کی سہولت سے متعلق قانون نہیں تھا جس پر کام جاری ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر تعمیرات کی صف کے متعلق رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کی ترقی سے جہاں عام لوگوں کو اپنا گھر بنانے کی سہولت حاصل ہو گی، وہاں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور تعمیراتی صنعتوں کا پہیہ چلنے سے ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی وباءکے باعث پوری دنیا کی معیشت مندی کا شکار ہوئی اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے۔ تعمیرات کے شعبہ کی ترقی سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کا مقصد غریب اور کم آمدنی والے لوگوں کو گھر بنانے میں مدد دینا اور ملک میں روزگارکے مواقع پیدا کرنا ہے۔ تعمیرات کے شعبہ میں حکومت نے سہولیات کی پیشکش کی ہے، اس صنعت سے وابستہ افراد رواں سال 31 دسمبر تک ان سہولیات سے ضرور فائدہ اٹھائیں کیونکہ کورونا کی وباءکے پیش نظر عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 31 دسمبر تک مہلت ملی ہے، اس کے بعد یہ سہولت ختم ہو جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے تحت حکومت نے 30 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکیم کے تحت پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی مکان تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بینکوں کے قرضوں کے حصول میں بھی سہولیات دی جا رہی ہیں، پانچ مرلہ مکان کی تعمیر کے لئے بینک قرضے پر5 فیصد جبکہ 10 مرلہ مکان کی تعمیر کے لئے قرضہ پر 7 فیصد مارک اپ ادا کرنا ہو گا، مارک اپ کی باقی رقم پر حکومت کی جانب سے سبس©ڈی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے کم آمدنی والے طبقات کو اپنا گھر بنانے میں آسانی ہو گی اور مکان کی لاگت میں بھی واضح کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے بینکوں کو آمادہ کیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کا پانچ فیصد تعمیرات کے لئے مختص کریں کیونکہ اس وقت ملک کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اس طرح ہاﺅسنگ و تعمیرات کے لئے 330 ارب روپے مختص ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی دستیابی کے علاوہ تعمیرات کی انڈسٹری کے لئے دیگر رکاوٹوں کو بھی دور کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ صوبوں کے ساتھ مل کر ہاﺅسنگ کے منصوبوں کے لئے این او سی کی تعداد کم کی ہے جبکہ ون ونڈو آپریشن بھی شروع کیا ہے جس کے ذریعے کنسٹرکشن انڈسٹری اور بلڈرز کو آن لائن مسائل حل کرانے کی سہولت حاصل ہو گی۔ اس طرح نقشہ جات کی منظوری اور دیگر امور نمٹانے کے لئے بھی مدت متعین ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبہ کے لئے ٹیکسوں میں بھی کمی کی گئی ہے جس سے تعمیرات کی لاگت کم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نے ہاﺅسنگ اور تعمیرات کے شعبہ اور کم آمدنی والے طبقہ کے لئے اپنا گھر بنانے میں سہولت دینے کے لئے اتنا کام نہیں کیا۔ اس لئے تمام لوگ ان سہولیات سے ہر ممکن فائدہ اٹھا سکیں۔









