اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں، مسئلہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ وہ شرائط ہیں جو اپوزیشن نے رکھی ہیں، وزیراعظم عمران خان کبھی بھی اپوزیشن کو این آر او نہیں دیں گے، ملکی مفاد کے لئے فیصلے کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے …
وزیراعظم عمران خان کبھی بھی اپوزیشن کو این آر او نہیں دیں گے، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی

مزید خبریں
اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں، مسئلہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ وہ شرائط ہیں جو اپوزیشن نے رکھی ہیں، وزیراعظم عمران خان کبھی بھی اپوزیشن کو این آر او نہیں دیں گے، ملکی مفاد کے لئے فیصلے کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بات ہوتی ہے اپوزیشن این آر او جیسی شرائط رکھتی ہے، وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو کسی صورت این آر او دینے کو تیار نہیں، اپوزیشن اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹے گی تو بات آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف بل کے معاملے پر بھی اپوزیشن نے ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے شرائط رکھیں، مسئلہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ وہ شرائط ہیں جو اپوزیشن نے رکھی ہیں، ڈائیلاگ میں کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فیٹف میں جو قانون پاس ہوئے وہ پاکستان کے پوائنٹس کے لئے ضروری تھے، فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے ایسے قوانین کی منظوری ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن میں شفافیت لانے کے لئے شو آف ہینڈز کی تجویز پیش کی گئی، شو آف ہینڈ کا معاملہ اپوزیشن کے پاس ہے جس پر وہ سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنکشنل لیگ جی ڈی اے میں شامل ہے جو ہماری اتحادی جماعت ہے، محمد علی درانی نے شہباز شریف کی خواہش پر ان سے ملاقات کی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما بتائیں کہ شہباز شریف نے پہلے بلاول بھٹو اور پھر بعد میں محمد علی درانی کے ساتھ کیا باتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کا اختیار تو نواز شریف اور شہباز شریف کے پاس ہے، (ن) لیگ کے دیگر رہنمائوں کو علم ہی نہیں کہ کس لیول پر بات ہو رہی ہے، مریم نواز، شاہد خان عباسی جیسے لوگوں کو شطرنج کے اس کھیل میں صرف پیادوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، پیادے صرف استعمال ہوتے ہیں، بادشاہوں نے فیصلہ کر لیا ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ رہنا چاہیے، جب حکومت اور اپوزیشن میں کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو بڑے فیصلے نہیں ہو سکتے، بات چیت ضرور ہونی چاہیے، اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، مذاکرات ہمیشہ ان معاملات سے شروع کئے جاتے ہیں جن پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے، جب بات چیت شروع میں ہی ایسے معاملے سے کی جائے جس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکتا تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے بات چیت شروع کی جانی چاہیے، اس کے بعد معاملات آگے بڑھتے جائیں گے، ہمیں ملک کے مفاد میں بڑے فیصلے کرنا ہوں گے، ملکی مفاد کے لئے فیصلے کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان تضاد ہے، اپوزیشن نے تحریک چلا کر اپنا شوق پورا کر لیا، پاکستان کے عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا،مذاکرات کے لئے اپوزیشن کی سنجیدگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے اراکین اسمبلی نے استعفے دیئے ہیں تو ہی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس پہنچے ہیں، اگر استعفے دے دیئے ہیں تو اس پر قائم رہنا چاہیے۔








