اسلام آباد/جنیوا ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مچل بچیلٹ کو بھارت کی جانب سے چار ماہ پر محیط 80 لاکھ کشمیریوں کے خلاف چار ماہ کے طویل لاک ڈاﺅن کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا جس کی تصدیق دنیا بھر کے آزاد مبصرین نے کی ہے۔ پی ایم میڈیا آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق …
وزیراعظم عمران خان کی جنیوا میں منعقد ہونے والے پہلے گلوبل ریفیوجی فورم کے موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد/جنیوا ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مچل بچیلٹ کو بھارت کی جانب سے چار ماہ پر محیط 80 لاکھ کشمیریوں کے خلاف چار ماہ کے طویل لاک ڈاﺅن کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا جس کی تصدیق دنیا بھر کے آزاد مبصرین نے کی ہے۔ پی ایم میڈیا آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جنیوا میں منعقد ہونے والے پہلے گلوبل ریفیوجی فورم کے موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم موجودہ حکمران جماعت کی جانب سے اختیار کئے گئے فاشسٹ نظریہ کی عکاسی ہے، سٹیزن شپ ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹری آف سٹیزن کا مقصد آسام کے 20 لاکھ کے قریب افراد کو شہریت کے حق سے محروم کرنا ہے جو کہ اس ذہنیت کا مظہر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس کا ادراک کرے اور جنوبی ایشیاءکے امن و استحکام کو خطرات میں ڈالنے اور انسانی تباہی کی خطرناک پالیسیوں کے خلاف فوری اقدامات اٹھائیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی دو رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں بگڑتی ہوئی صورتحال مانیٹرنگ جاری رکھے۔ اس موقع پر ہائی کمشنر نے وزیراعظم کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے حوالے سے اپنے جاری کئے گئے ردعمل کا حوالہ دیا۔ وزیراعظم نے ہائی کمشنر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔








