وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس،آرمی ریگولیشن255 میں ترمیم کر کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے اضافے کی منظوری

اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پرسپریم کورٹ کی آبزرویشن کا جائزہ لیا گیا اور آرٹیکل255میں ترمیم کے ذریعے لفظ مدت میں توسیع کے اضافے کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے کی …

اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پرسپریم کورٹ کی آبزرویشن کا جائزہ لیا گیا اور آرٹیکل255میں ترمیم کے ذریعے لفظ مدت میں توسیع کے اضافے کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے کی مکمل حمایت کردی ہے، وزیراعظم عمران خان کا جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا19اگست کا فیصلہ برقرار ہے تاہم عدالت عظمی کی معاونت اور معاملات کو مزید واضح کرنے کے لئے آرمی ریگولیشن255 میں ترمیم کر کے اس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع شامل کر دی گئی ہے ،وزیراعظم عمران خان نے آپریشن ردالسفاد ، سرحدی کشیدگی ، مقبوضہ کشمیر میں 100روز سے جاری کرفیو، ممکنہ فال فلیگ آپریشن،بھارت کی جانب سے مسلسل دھمکیوں ،دریاﺅں کا پانی روکنے کی باتوں اور غیر معمولی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 243کے تحت کیا ہے ۔ وفاقی وزراءشفقت محمود ،شیخ رشید احمد اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرات وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعدمنگل کی رات پی آئی ڈی کے میڈیا سینٹر میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ وفاقی وزیر پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت شفقت محمود نے کابینہ اجلاس کے حوالے سے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس ،عدالت کی آبزوریشن اور نوٹسز کے اجراءکے معاملے پر غور کیا گیا ۔وفاقی کابینہ نے اعادہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 243کے تحت وزیراعظم عمران خان کا اختیار ہے کہ وہ سروسز چیف کی توسیع کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجواسکتے ہیں ،اسی عمل کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی ہے ۔وزیراعظم کی یہ بھی صوابدید ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کریں کہ کیا حالات ایسے ہیں کہ جن کے مطابق توسیع دی جائے یا نہ دی جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے پاک فو ج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے خطے کے غیر معمولی حالات ،1971کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے اور لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے ،سرحدی کشیدگی اور دیگر وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ہر لحاظ سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے ۔وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ آرمی کی کمانڈ میں تسلسل ہونا چاہیے اس لئے سمری صدر مملکت کو بھجوائی گئی ۔وفاقی وزیر شفقت محمود نے بتایا کہ معزز عدالت نے آبزرویشن دی کہ آرمی ریگولیشن 255میں توسیع کا ذکر نہیں ہے ،وفاقی کابینہ نے عدالت کی مدد کرنے اور معاملات کو کلیئر کرنے کے لئے آرمی ریگولیشن 255میں ترمیم کرتے ہوئے معطلی ،ریٹائرمنٹ کے ساتھ ساتھ مدت ملازمت میں توسیع بھی شامل کر دی ہے ۔وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے تمام اراکین بشمول اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے پر وزیراعظم کے فیصلے کی مکمل حمایت کی اور اس دوراندیشن فیصلے پر خراج تحسین پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جس طرح بھارت کا سبق سکھانے ، کرتار پور راہدری کھولنے ، جمہوری حکومت کے تسلسل کے لئے شانہ بشانہ کھڑا ہونا لائق تحسین ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ رولز آف بزنس 17اور 19کے تحت جوکابینہ اراکین خاموش ہوتے ہیں ان کا موقف ہاں میں تصور ہوتا ہے ۔وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جسطرح معاشی ،سیاسی اور اقتصادی صوترحال پر قابو پایا اسی طرح ان کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بھی اچھا فیصلہ ہے ، اس کا مقصد ملک کے موجودہ صورتحال میں سیاسی اور عسکری قیادت کا مل کر مقابلہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم وزارت سے مستعفی ہوگئے ہیں وہ (کل) بدھ کو عدالت میں جنرل باجوہ کی جانب سے عدالت میں پیش ہونگے اور اٹارنی جنرل کی بھی معاونت کرینگے ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرنے کہا کہ وزیر قانون رضا کارانہ طور پر مستعفی ہوئے ہیں ،ان کی خدمات کو کابینہ نے سراہا ہے ،میڈیا پر تنقید سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ جنرل ضیاءالحق ،جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت کئی آرمی چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی ہے جو ریکارڈ کا حصہ ہے ۔